Monday, 31 May 2021

معاشرہ طوائفیت میں ایک اور طوائف کا اضافہ ازقلم غنی محمود قصوری




اپنے رب کی طرف سے دیئے گئے حسن و شباب کو بیچنے والی کو طوائف،کنجری و بازاری عورت کہا جاتا ہے اور اس طوائف کی دلالی کھانے اور اس سے یہ گھناؤنا کام کرانے والی کو نائیکہ


اکثر نائیکائیں بھی کبھی طوائف رہ چکی ہوتی ہیں جب وہ اپنے حسن و شباب سے لوگوں کو خوش کر کر کے اپنی عمر پوری کر گزرتی ہے تو پھر وہ نائیکہ بن کر لوگوں کی ہوس پوری کروا کر اس گندگی کی کمائی کھاتی ہیں


حالانکہ اس بوڑھی نائیکہ کی ڈھلی جوانی کو اب نفسانی خوائش نہیں رہتی اسے کھانے پینے کے لئے اکثر اس کے پرانے یار مدد گار رہتے ہیں مگر وہ اپنا گندہ معاشرہ بڑھانا چاہتی ہے اور ایڑی چوٹی کا زور لگا کر عورتوں کو ورغلاتی ہے

 بعض مرتبہ عورتوں کو بلیک میل کرکے اپنی قبیح عادت پوری کرتی ہے کیونکہ شرعی نظام سے بغاوت اس کو شیطان کی خاص قربت دلا چکی ہوتی ہے اور وہ مارے شہرت اور اپنی جھوٹی واہ واہ کی خاطر اپنا جسم بیچنے کی رسیا ہو چکی ہوتی ہے 


گندگی کے اس ماحول میں رہ کر اس کا دماغ گندا ہوا ہوتا ہے  جس کی خاطر وہ لوگوں کی بہنوں بیٹیوں کو طوائف بننے پر مجبور کرتی ہیں حالانکہ وہ جانتی ہے کہ ایک خاوند کی شرعی بیوی بن کر خاوند جہاں سے چاہے جیسے چاہے لاکر بیوی کو دیتے ہیں اور شہزادیوں کی طرح رکھتے ہیں مگر پھر بھی وہ عورتوں کو طوائف بنانے کیلئے ذہن سازی کرتی ہیں


طوائف جسم بیچتی ہے انتہائی گندہ کام کرتی ہے رب کے نظام سے بغاوت کرتی ہے مگر طوائف اپنے قول و فعل کی پکی ہوتی ہے وہ اپنے گاہکوں سے کبھی غداری نہیں کرتی کیونکہ اسے اس دھندے میں اپنا نام بنانا ہوتا ہے


طوائف سے بھی بڑھ کر ایک گھٹیا کام ہے جسے ضمیر فروشی کہا جاتا ہے 

ضمیر فروش معاشرے کا سب سے بڑا ناسور ہوتا ہے جسے اپنے ایمان کو بیچتے کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوتی 

حالانکہ ضمیر فروش جانتا ہوتا ہے کہ جو وہ کر رہا ہے وہ غلط ہے مگر معاشرے میں شہر و دولت کی ریل پیل اور اغیار کی چاکری اسے ضمیر بیچنے پر مجبور کرتی ہے 


طوائف کے غلط اثرات چند غلط افراد تک ہوتے ہیں جبکہ ایک ضمیر فروش کے اثرات پورے معاشرے کو اپنی لپٹ میں لے لیتے ہیں چونکہ طوائفوں کا مخصوص علاقہ ہوتا ہے اور گھناؤنا کام کرنے والی بھی عورتیں ہی ہوتی ہیں

 اس لئے گاہکوں کو آسانی رہتی ہے گھر گلی محلہ کے جاننے میں جبکہ ضمیر فروش ،مرد و عورت و بوڑھاو جوان عرضیکہ کوئی بھی ہو سکتا ہے جس کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا وہ ہر جگہ ہر وقت ضمیر فروشی کرتا ہے

 ایک آدھ ضمیر فروش کی بدولت پورا ملک معاشرہ و قوم بدنام ہو جاتی ہے 

یہ ضمیر فروش کسی بھی شعبہ زندگی سے ہو سکتا ہے 

طوائف بوڑھی ہونے پر نائیکہ بنتی ہے یاں پھر روپوشی کی زندگی گزارتی ہے مگر ضمیر فروش عمر بھر ضمیر فروشی کرتا ہے حتی کہ زیادہ عمر ہونے پر سیانا ضمیر فروش بن جاتا ہے 


اسی ضمیر فروش جیسا حال ہمارے معروف صحافی حامد میر صاحب کا ہے جنہوں نے اس مثل خاندان پاکستان کی ہمیشہ بغاوت ہی کی ہے حتی کہ کھل کر بنگلہ دیش میں پاکستان کی مخالفت میں تقریر کی اور اپنے باپ وارث میر کی دلالی  بنگلہ دیش و انڈیا پر ایوارڈ حاصل کیا 

یہی نہیں ان صاحب کا ہر جملہ پاکستان و افواج پاکستان کے مخالف رہا اور ماضی میں انہوں نے اپنے اوپر قاتلانہ حملے کا ڈھنڈورا پیتا اور اپنی مشہوری کرنے کی کوشش کی اور آزادی صحافت کا مفادی نعرہ لگایا حالانکہ گالیاں فوج کی دیں اور پھر بھی صحافت کی آزادی مانگی 

کوئی سمجھدار اس سے پوچھے بھئی گالیاں دے کر بھی تم آزاد نہیں؟

ماضی میں اس پر ہوا خود ساختہ قاتلانہ حملہ بہت بری طرح فلاپ ہوا 

مگر بجائے شرمندگی اور پروف دینے کے اس نے اپنی زبان کو افواج پاکستان و ملک پاکستان کے خلاف مذید تیز کر دیا

 اب جبکہ یہ صاحب 55 سال کی عمر سے اوپر نکل چکے ہیں تو اب ان کو اپنی طوائفی جاتی ہوئی نظر آئی تو موصوف نے ایک نئی طوائف اسد طور کی صورت میں تیار کی تاکہ اب طوائفی ختم ہونے پر نائیکہ بن کر کمایا جا سکے اور معاشرہ طوافی میں ایک اور نئی طوائف کا اضافہ کیا جاسکے

 

سو اس ڈرامے کو حقیقت بنانے اور پاکستان و سیکیورٹی اداروں کو بدنام کرنے کیلئے اسلام آباد سیکٹر ایف الیون میں خود ساختہ صحافی، یوٹیوبر اسد طور کے فلیٹ پر ایک ڈرامہ رچایا گیا جس میں اسد طور نے واویلا کیا کہ تین مسلح اشخاص نے میرے فلائٹ میں زبردستی گھس کر میرے ہاتھ پاؤں باندھے اور مجھے پسٹل کی ہینڈ گرپ سے مارا اور مجھ سے زبردستی پاکستان زندہ باد کے نعرے لگوائے

 مذید آگے وہی حامد میر صاحب والی سٹوری کی طرح ڈرامہ  پہلے دن بازؤں پر لمبی چوری پٹی دوسرے دن تھوڑی سی پٹی اور آخر تیسرے دن اپوزیشن راہنماؤں کے ساتھ ملاقات میں مکمل پٹی اتری ہوئی جس میں واضع دیکھا جا سکتا ہے کہ چوٹیں ایسی ہیں کہ دیوار کے پلاسٹر کے ساتھ ہلکا سا رگڑا ہوا ہو اور ان پر رنگ لگایا گیا ہو 


مزیدار بات یہ ہے کہ آج دن تک شاید کے کسی نے اسد طور صاحب کا نام ہی سنا ہو اور اب جناب ہر کسی کی زبان پر دھرائے جا رہے ہیں خاص کر ملک مخالف ملکی و غیر ملکی میڈیا پر 

سوچنے کی بات ہے کہ ایک دبلے پتلے بندے کو کہ جسے ایک تندرست عورت زور سے تھپڑ مارے تو ایسے افراد اکثر بے ہوش ہو جاتے ہیں، کے ٹانگ،بازو وغیرہ یاں کوئی بھی اعضاء کیوں نا توڑے گئے یاں پھر اسے سیدھا گولی مار کر مکمل خاموش کیوں نا کیا گیا ؟


یہ لوگ جس آئی ایس آئی پر الزام لگاتے ہیں اس کی باتیں تو پوری دنیا کی زبان پر آتی ہیں کہ یہ جب جہاں چائیں اپنا کامیاب وار کرکے بغیر پہچان کرائے نکل جاتے ہیں تو پھر اس ممی ڈیڈی اسد طور کو آخر اسلام آباد میں ہی کیوں ٹارچر کیا گیا کیا

نیز کیا  آئی ایس آئی والے اسے اپنے ساتھ لیجانے سے ڈرتے تھے؟


یہ ڈرامہ بھی سابقہ قاتلانہ حملہ حامد میر کی طرح فلاپ ہو چکا اور لوگوں کو پتہ چل چکا کہ بات صرف دلالی اور مشہوری کی ہے

اور اب ایک ضمیر فروش پرانی طوائف بوڑھی ہو چکی اور اب معاشرہ طوائفیت میں ایک اور نئی طوائف لا کر دلالی کھانا چا رہی ہے

Sunday, 30 May 2021

داستان لہو رنگ کشمیر ازقلم غنی محمود قصوری





وہ دونوں ایک دوسرے سے انجان تھے اور ایک دوسرے سے بات کرنے سے بھی ڈر رہے تھے کیونکہ ان کو پتہ نہیں تھا کہ کون دوست کون دشمن ہے 

خیر نا چاہتے ہوئے بھی ان دونوں  اجنبیوں نے ہاتھ ملائے اور ایک دوسرے سے کہنے لگے مجھے مجاھدین سے ملنا ہے

 

اتنے میں دور سے ایک مسلح شحض آتا دکھائی دیا جس نے ان سے ہاتھ ملایا اور آنے کی وجہ پوچھی انہوں نے کہا ہمیں بدلہ لینا ہے انڈیا سے 

اس مسلح شحض نے کہا آپ جائیے ہم ہیں ان شاءاللہ آپ کا بدلہ لینگے چاہے جو بھی سلوک ہوا آپ کے ساتھ کیونکہ ہم امت کے غموں کا بدلہ لینے نکلے ہیں


 مگر وہ بولے ہم تو گھر چھوڑ آئے ہیں اس مسلح شحض نے وائرلیس پر رابطہ کیا اور اپنے دوسرے ساتھیوں کے آنے پر انہیں دور ہائیڈ آؤٹ میں لے آیا جہاں ان کو کھانا پیش کیا گیا اور کمانڈر نے ان سے آنے کا سبب پوچھا تو سب سے پہلے 18 سالہ عبداللہ اپنی آپ بیتی سنانے لگا کہ

وہ سردی کی ایک صبح تھی اور میں  اپنے کالج جانے کیلئے سرینگر کے لال چوک سے گزر رہا تھا کہ مجھے ایک فوجی گاڑی نے رکنے کا کہا میں اشارہ دیکھ کر رک گیا گاڑی میں آگے بیٹھے جوئینر کمیشنڈ آفیسر نے مجھے ماں کی گالی دی  گالی سن کر میرا  دل اداس ہوا مگر میں برداشت کر گیا اتنے میں دو سپاہی اترے اور کہنے لگے جو بھی پاس موجود ہے وہ ہمیں چیک کراؤ میں نے اپنا موبائل بٹوہ اور بیگ ان کے حوالے کر دیا ایک اور سپاہی اترا اور اس نے میرا نوکیا سادا سا عام موبائل میری فیرن سے نکال لیا جو کہ میں چھپا کر رکھتا تھا کیونکہ انڈین فوج موبائل چیکنگ کے بہانے گھنٹوں ذلیل کرتی ہے اور بعض مرتبہ موبائل ضبظ کر لیا جاتا ہے سو اس عام موبائل سے گھر رابطہ کرنے میں آسانی ہوتی ہے پھر 

 وہ سپاہی افسر سے بولا صاحب دو دو موبائل ہیں دوسرا چھپا کر رکھا تھا  

اس بات سے فوجی افسر کو خوب غصہ آیا اور اس نے مجھے فوجی گاڑی میں ڈالا اور قریبی چھاؤنی میں لیجا کر خوب تشدد کیا اور دن چڑھتے ہمارے گھر کے باہر پھینک گئے اور جاتے ہوئے میری ماں سے کہنے لگے یہ مجاھدین کے ساتھ رابطے کرتا ہے اگر اس نے دوبارہ رابطہ کیا تو گولی مار دینگے 

میری ماں نے مجھے سینے سے لگایا اور مجاھدین کے متعلق پوچھا تو میں نے اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ میں نے تو کبھی قریب سے بھی کسی مجاھد کو دیکھا تک نہیں 

مجھے درد ہو رہی تھی ماں نے دوائی دی اور مجھے نیند آ گئی

جب آنکھ کھلی میری ماں رو رہی تھا جس سے میرے دل میں آگ سی بھڑک اٹھی 

پورا ایک ماہ بستر پر گزرا اور پھر میں نے کالج جانا شروع کر دیا آج پھر کالج جاتے ہوئے نئے آنے والے صوبیدار نے مجھے بے وجہ گالیاں دیں اور تھپڑ مارے



اس کے بعد کمانڈر نے 24 سالہ حمزہ سے آنے کا مقصد پوچھا تو حمزہ نے بتانا شروع کردیا کہ


میں درزیوں کا کام کرتا ہوں اور اپنے گھر میں سب سے بڑا ہوں مجھ سے چھوٹے دو بھائی ہیں اور ایک اٹھاراں سالہ بہن ہے

میرا ایک بیٹا معاذ ہے جس کی عمر تین ماہ ہے  

چند دن قبل ہمارے گاؤں میں انڈین فوج نے سرچ آپریشن کیا فوج ہمارے گھر داخل ہوئی اور مجاھدین کا پوچھنے لگی میں نے جواب دیا کہ یہاں کوئی نہیں آیا آپ کو شک ہوا ہے میری بات پر میجر کو سخت غصہ آیا اور اس نے مجھے کہا کہ ہمارے آگے زبان چلاتے ہو اس نے مجھے رائفل کے بٹ سے مارنا شروع کیا تو میری بیوی مجھ پر لیٹ گئی میجر نے میری بیوی کو بالوں سے پکڑا اور  گھسیٹتا ہوا صحن میں لے گیا جہاں دوسرے فوجی میری بیوی کو دیکھ کر ہنس رہے تھے جبکہ میں ان کی منت سماجت کر رہا تھا شور سن کر میری بوڑھی معزور ماں چلانے لگی کہ ہمیں کچھ نا کہو مگر انہوں نے میری ماں کو گالیاں دیں اور میری بیوی کو گاڑی میں  زبردستی بٹھا لیا میری لاکھ منت کرنے پر بھی باز نا آئے اور اسے لے گئے اگلی صبح صبح گھر  کے باہر گاڑی رکی اور میری بیوی کو پھینک کر چلی گئی تب سے دل تڑپ رہا ہے سو میں بیوی بچوں کو اکیلا چھوڑ کر بدلہ لینے آگیا ہوں اور آتے ہوئے بیوی و گھر والوں کے نام خط کر رکھ آیا ہوں کہ میرے بچے کو مدرسہ میں پڑھانا اب ہماری ملاقات اللہ کے ہاں ہی ہو گی


کمانڈر صاحب نے ان کی باتیں سنیں اور ان کو تسلی دی ان سے وعدہ کیا کہ ان پر کئے ظلم کا حساب ہو گا 

اگلی صبح وہ دونوں کمانڈر صاحب کے ہمراہ چل رہے تھے اور انہوں نے ایک فوجی کانوائے پر ایمبش کیا حمزہ شہید ہو گیا جبکہ عبداللہ ابھی بھی برسرپیکار ہے اور مجاھدین کی کمان کر رہا ہے اس کی کاروائیوں سے انڈین فوج سخت پریشان ہے اور انڈین فوج کی طرف سے اس کے سر کی پانچ لاکھ قیمت مقرر کی گئی ہے 

مگر وہ جانتا ہے یہ دنیا عارضی ہے اصل گھر جنت ہے اور جنت آزمائشوں سے ملتی ہے

Thursday, 27 May 2021

نعرہ تکبیر ضروری تھا ازقلم غنی محمود قصوری





ہمارے گلی محلے میں اکثر خود نمائی کے شوقین اور خود کو دوسروں سے اعلی و ارفع سمجھنے والے لوگ موجود ہوتے ہیں ایسے لوگوں کو عادت ہوتی ہے ہر کام میں ٹانگ اڑانے کی چاہے لتریشن ہی کیوں نا کروا لیں

 ایسے بندوں کو عرف عام میں خوامخواہ کہتے ہیں 

ایسا ہی حال ہمارے پڑوس میں واقع دنیا کے سب سے بڑے مشرک ہندو کا ہے اسے اپنے پڑوسیوں کے ہر معاملے میں ٹانگ اڑانے کی عادت ہے جس پر اس کی کئی بار درگت بن چکی مگر یہ اپنی غلیظ حرکتوں سے باز نا آیا 

قیام پاکستان سے ہی پورے عالم کفر خاص کر  ہندو کو پاکستان ایک آنکھ نا بھاتا تھا اور وہ کوشش کرتا میں کسی نا کسی طرح پاکستان پر اپنی ڈھاک بٹھائے رکھو اور اس کرہ ارض برصغیر کا جگا بدمعاش بن کر حکمرانی کرو


1947 سے 1948 میں اس نے کشمیر پر ناجائز قبضہ کرنے کے بعد جنگ کرکے پنگا لیا اور درگت بننے پر سلامتی کونسل سے جنگ بندی کروائی پھر 1965 میں ایک بار اسے بدمعاشی کا شوق چڑھا اور پوری دنیا کے سامنے ذلیل خوار ہو گیا 

1971 میں شاطر ہندو نے طریقہ واردت بدلا اور اپنوں کو اپنے کے چلاف کرکے مشرقی پاکستان کو دولخت کر دیا مگر تاریچ گواہ ہے اس ہاری ہوئی جنگ کے باوجود پاکستانی فوج نے مغربی محاذ پر واہگہ سلیمانکی اور قصور کے محاذ پر اس کے اندر تک گھس کر یوں مارا کہ انڈیا کی چیخیں نکل گئی مگر اس کا پلہ بنگلہ دیش کی بدولت بھاری رہا یوں ہم اپنے مشرقی بازو سے ہاتھ دھو بیٹھے

خیر جب اپنوں میں پیار ہی نا رہے تو حالات گھمبیر ہوں ہی جاتے ہیں مشرقی پاکستان کو علیحدہ کرنے پر انڈیا کا اندرونی بدمعاش خود کو بہت طاقتور سمجھنے لگا اور اسی تقویت بدمعاشی کیلئے اس نے اپنا ایٹمی پروگرام شروع کیا اور 1974 میں ایٹمی تجربات کرکے اپنی ڈھاک بٹھانے کی کوشش کی 

چونکہ انڈیا دنیا کی تیسری بڑی بری فوج،چھوتی بڑی فضائی اور پانچویں بڑی بحری فوج رکھنے والا ملک ہے جبکہ پاکستان اس کے سامنے قلیل فوج و محدود وسائل رکھتا ہے اسے لئے ہندوستان پنگے بازیاں کرتا رہا جس سے بچاؤ کی خاطر پاکستان نے بھی اپنا ایٹمی پروگرام سخت پابندوں محدود وسائل کیساتھ شروع کیا ہوا تھا اور بھارت اس گھمنڈ میں تھا کہ پاکستان کم ترین وسائل کے ساتھ اس پروگرام کو پایہ تکمیل تک نا پہنچا پائے گا اسی لئے ہندوستان پاکستان کے اندر چند ضمیر فروشوں کو خریدا اور صوبائیت،فرقہ واریت،لسانیت،قومیت،مہاجریت کے نعرے لگوا کر پاکستان کا امن تباہ کروایا جس میں لاکھوں پاکستانیوں نے اپنی جان سے ہاتھ دھوئے جبکہ اس پاکستان کے اندر  تخریب کاری سے پاکستانیوں کو نقصان پہنچانے کیساتھ ارض پاک کو ایک دہشت گرد اور غیر محفوظ ریاست ثابت کرکے ایٹمی پروگرام رکوانا چاہتا تھا مگر ہمارے سائنسدانوں نے ہر قسم کی پابندیوں محدود وسائل کیساتھ کام جاری رکھا 


 ہندوستان تیزی سے پایہ تکمیل ہوتے پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے پریشان تھا اور اسی لئے وہ 

پاکستان کے متوقع ایٹمی دھماکے روکنے کیلئے اور اپنی دھاک بٹھانے رکھنے کیلئے ہندوستان نے ایل او سی ہر حالات سخت کشیدہ کر دیئے اور پھر  11 سے 13 مئی

1998 کو ایک بار پھر اپنی تھانیداری قائم کرنے کیلئے ایٹمی دھماکے کئے اور ایل او سی پر جارحیت تیز کر دی جس پر مجبوراً پاکستان کو اپنے دفاع کیلئے 28 مئی 1998 کو صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی میں محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان ،ڈاکٹر ثمر مبارک مند اور ان کی ٹیم نے اس وقت کے وزیراعظم محمد نواز شریف اور چیف آف آرمی سٹاف کی موجودگی میں نعرہ تکبیر اللہ لگا کر  5 ایٹمی دھماکے کئے جو کہ وقت کی بہت بڑی ضرورت تھے  بصورت دیگر انڈیا پاکستان پر ایٹمی حملہ کر سکتا تھا 


پاکستان کے ایٹمی دھماکے کرنے سے قبل ہندوستان نے  24 مئی 1998 کو ایک پاکستانی فوکر طیارہ F_27 اغواء کروایا اور اسے انڈیا لیجانے کی پوری کوشش کی مگر پاکستانی انٹیلیجنس و سیکیورٹی اداروں کی کاوش سے ہائی جیکروں کو کمال مہارت سے جہاز کے کپتان نے چکمہ دے کر طیارے کو حیدر آباد ائیر پورٹ پاکستان پر اتار لیا اور تاثر دیا کہ طیارہ ہندوستان اتارا گیا ہے جبکہ بعد میں اغواء کاروں کو گرفتار کر لیا گیا جنہوں نے ہندوستان کے سارے راز فاش کئے


ان دھماکوں سے انڈیا کا منہ تو کھلنا تھا ہی مگر اس کے ساتھ پورے عالم کفر خاص کر اسرائیل کا بھی منہ کھلے کا کھلا رہ گیا جبکہ عالم اسلام نے 28 مئی کا دن ایسے منایا کہ گویا ایٹمی دھماکے پاکستان نے نہیں بلکہ دنیا کے ہر مسلمان ملک نے کئے ہو


ایٹمی دھماکوں کے بعد ہندوستان نے ایل او سی پر جارحیت کو خود ہی ختم کر دیا

اور اس کا تھانیدار بننے کا خواب چکنا چور ہو کر رہ گیا بعد میں ہندوستان و پاکستان کے حالات کشیدہ تو رہے مگر انڈیا کھل کر دھمکیاں دینے سے باز رہا ہے مگر اب بھی ہندو شاطر ماضی کی طرح پاکستان کے اندر بلوچستان ،سندھ،خیبر پختونخوا و پنجاب کے علاقوں میں فسادیوں کو کھڑا کرکے حالات کشیدہ کرواتا رہتا ہے مگر وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اب حالات 1971 جیسے نہیں کیونکہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور دنیا کی بہتر فوج رکھتا ہے

Wednesday, 26 May 2021

لادی گینگ مجید لادی سے خدا بخش چکرانی تک ازقلم غنی محمود قصوری




ڈیرہ غازی خان میں ایک عرصہ سے چوروں ڈاکوؤں کا راج ہے جس سے وہاں کے باسیوں کا جینا محال ہو چکا ہے اور یہ علاقہ موجودہ وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزار کا آبائی بھی یے 

 لادی گینگ کا سرغنہ کمانڈر خدا بخش چکرانی ہلاک ہونے کی اطلاع ہے اور  آپریشن تاحال جاری ہے ان ڈاکوؤں کی جانب سے سیکیورٹی فورسز پر شدید فائرنگ کی جا رہی ہے 

چند روز قبل لادی گینگ کے ٹاپ کمانڈر خدا بخش چکرانی نےایک ہی خاندان کے 10 افرد کو قتل کر دیا تھا اور اپنی پوری شان و شان سے علاقے میں دندناتا پھر رہا تھے 

اس نے چند روز قبل پولیس کو مخبری کرنے پر 3 افرد کو قتل کیا اور ایک کے اعضاء کاٹنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر دال دی جس سے پورے ملک میں خوف وہراس کی لہر پھیل گئی 

انہوں نے جو طریقہ اختیار کیا وہ سیم کالعدم خارجی جماعت تحریک طالبان پاکستان اور داعش کا ہے 

وزیراعظم پاکستان عمران خان کے نوٹس لینے کے بعد کل پاکستان رینجرز  و پولیس نے مشترکہ آپریشن اس گروہ کے خلاف شروع کیا جس میں خدا بخش چکرانی کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے 

یہ گینگ اس قدر سفاک اور طاقتور ہے کہ ان کے پاس 400 مسلح افراد ہیں جن کے پاس ملکی و غیر ملکی جدید ترین اسلحہ کے ساتھ آر پی جی سیون راکٹ لانچرز بھی موجود ہیں بعض ذارئع کا کہنا ہے کہ اس گروہ کے پاس اینٹی ائیر کرافٹ گن بھی موجود ہیں


گزشتہ سال جون 2020 میں اسی گینگ کے اس وقت کے سربراہ مجید لادی کو پولیس و دیگر سیکیورٹی ادروں  نے زبردست مقابلے میں قتل کیا تھا جس کے سر کی قیمت 20 لاکھ مقرر تھی 

اب موجودہ سربراہ خدا بخش چکرانی خوف کی علامت سمجھا جاتا تھا اور انتہائی سفاک انسان تھا جو کہ اداروں کو قتل ،اقدام قتل،بینک ڈکیتی،اور دیگر سنگین مقدمات میں مطلوب تھا 


رواں سال 25 مارچ کو سیکیورٹی اداروں نے اسی گینگ کے خلاف تھلانگ کے علاقے میں آپریشن کیا تھا جس میں ہارون جیانی نام بدنام زمانہ ڈاکو مارا گیا تھا جو کہ اسی علاقے کا رہائشی تھا 

اس گینگ کے خلاف ابتک کئی آپریشن کئے جا چکے ہیں مگر افسوس کہ یہ گینگ ختم نہیں ہو سکا 

سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر یہ گینگ اتنا مضبوط کیسے ہو گیا ؟

کیا سیکیورٹی اداروں نے ان کو ڈھیل دی تھی یاں ڈیل کی تھی ؟

کیونکہ تیسری صورت نہیں بنتی  چند سال قبل بھی کچے کے علاقے میں چھوٹو گینگ کے خلاف پولیس آپریشن کی ناکامی پر پاکستان آرمی نے آپریشن کیا تھا جس کے بعد تصدیق ہوئی تھی کہ اس گروہ کے اعلی ترین پولیس اہلکاروں کے ساتھ روابط تھے 

اب چونکہ لادی گینگ کے خلاف آپریشن جاری ہے تو اب اس بات کی خاص تحقیق کی جائے کہ اس گروہ کے بھی پولیس کے ساتھ مراسم تو نہیں اگر ہیں تو ان اہلکاروں کو سامنے لایا جائے اور سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ دوسروں کو عبرت حاصل ہو سکے

نیز ہماری پولیس فورس کو مذید جدید ہتھیاروں کی سخت ضرورت ہے تاکہ وقت پڑنے پر رینجرز و فوج کو زحمت نا دینا پڑے کیونکہ پورے پاکستان کی 4 لاکھ سے اوپر اور پنجاب کی کم بیش 1 لاکھ 80 ہزار پولیس کو اربوں روپیہ تنخواہیں دی جاتی ہیں اگر یہ اتنا کام بھی نہیں کر سکتے تو ان کو مراعات و تنخواہیں دینے کا کیا فائدہ؟

افسوس کی بات ہے کہ بہت مرتبہ پولیس کی جانب سے ایسے افراد کی پشت پناہی ثابت ہوئی مگر کوئی خاص کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی

وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب اب وقت کا تقاضہ ہے کہ اس جیسے گروہوں کو مضبوط بنانے والے سیاسی و سیکورٹی اہلکاروں کو نشان عبرت بنایا جائے بصورت دیگر آپریشن آئے روز کرنے پڑینگے مگر اس کے باوجود یہ گینگ بڑھتے چلے جائینگے

Wednesday, 19 May 2021

لبیک یا رب الکعبہ ہم بیٹے حرم کے حاضر ہیں ازقلم غنی محمود قصوری




2017 کا ماہ رمضان تھا صہیونی ناجائز ریاست اسرائیل نے فلسطینی مسلمانوں پر بلکل اسی رواں سال کی طرح عرصہ حیات تنگ کیا ہوا تھا ان پر بمباری کی جا رہی تھی ان کے کاروبار ،مکانات تباہ ہو چکے تھے اور وہ کھلے آسمان تلے پناہ گزین کیمپوں میں رہ رہے تھے  

تباہ حال فلسطینی اپنے گھروں کے ملبوں پر پریشان بیٹھے امت محمدیہ کے فرزندوں کو پکارتے تھے

 ایسے میں پاکستان میں ایک جماعت الدعوہ نامی تنظیم ہوتی تھی جس کا ذیلی ادارہ فلاح انسانیت ہوتا تھا جو کہ رنگ ،نسل،ذات برادری،مسلک حتیٰ کہ مذہب دیکھے بنا انسانوں کی مدد کرتا تھا انہوں نے اپنے فلسطینی مسلمان بھائیوں کی آواز پر لبیک کہا اور اپنا قافلہ فلسطین کے کیمپوں میں بیجھا جس میں کھانے پینے کی اشیا،ادویات وغیرہ شامل تھیں نا کہ کوئی بھی عسکری اشیاء

انہوں نے اپنے فلسطینی بھائیوں کیلئے سحری و افطاری کا اہتمام کیا اور عید کے دن ان فلسطینی مسلمانوں کو تحفے تحائف کے ساتھ راشن دیا کہ جن کی خوشیاں یہودی بدمعاش نے چھین لی جیسے کشمیریوں کی ہندو پلید نے چھینی ہوئی ہیں

پوری دنیا شور مچاتی رہی کہ یہ تو دہشت گرد ہیں ان کو فلاحی کاموں کی اجازت نا دی جائے مگر وہ لوگ ساری باتیں سنتے دیکھتے ہوئے ڈٹے رہے اور  عید الاضحیٰ پر فلسطینی مسلمانوں کیلئے قربانی کا اہتمام کیا تاکہ معاشی تباہ حال مسلمان عید کی خوشی محسوس کر سکیں

وقت گزرتا گیا اور جماعت الدعوہ پاکستان و دنیا بھر کے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہر مذہب کے انسانوں کی مدد کرتی رہی کیونکہ انہوں نے منہج نبوی میں پڑھا تھا کہ آقا علیہ السلام ایک یہودی بچے کی عیادت کرنے خود تشریف لے گئے تھے اور اس حسن سلوک پر وہ یہودی مسلمان ہو کر دوزخ کا ایندھن بننے سے بچ گیا تھا


اسی جماعت نے سندھ جہاں سارے پاکستان میں لاکھوں فلاحی کیمپ وہیں سندھ میں مسلمانوں و ہندوؤں کے لئے کنویں کھدوائے اور اور پیاس سے نڈھال ان گھرانوں کیلئے صفاف شفاف پینے کے پانی کا اہتمام کیا کہ جن گھروں کے افراد روزانہ صحراؤں،پہاڑوں میں کم و بیش 10 کلومیٹر تک  پیدل اور غربت کے باعث اکثر ننگے پاؤں سفر کرکے پینے کیلئے بارش کا جمع شدہ گندہ پانی گڑھوں کھڈوں سے لاتے تھے کہ جن سے پرندے درندے بھی پانی پیتے تھے سو انہیں بھی مجبوراً اسی جگہ سے پانی بھرنا پڑتا تھا

 

حالانکہ میڈیا تھر کی یہ صورتحال سینکڑوں بار دکھا چکا تھا مگر مجال کے لوکل و صوبائی و وفاقی گورنمنٹ کے نمائندوں نے انسانیت کیلئے پانی کا اہتمام کیا ہو مگر اللہ نے یہ شرف اسی فلاح انسانیت کو بخشا تو ہندوستان کے غلیظ ذہن سیاستدانوں نے شور ڈالنا شروع کر دیا کہ اس جماعت نے پاکستان کے ہندوؤں کو جبری مسلمان بنانا شروع کیا ہوا ہے بات تھر کے ہندوؤں تک پہنچی تو انہوں نے میڈیا پر آکر بتایا کہ نا تو ہمیں ہندو سے مسلمان بنایا جا رہا ہے اور نا ہی ہمیں کسی دیگر مذہبی کام کیلئے مجبور کیا جا رہا ہے لہٰذہ ہندوستان پروپیگنڈا کرنے سے باز رہے

جبکہ کچھ ہندوؤں نے تو باقاعدہ اس جماعت کے بانی و سربراہ حافظ محمد سعید کی تصویر پکڑ کر کہا کہ یہ ہمارا سب سے بڑا مسیحا ہے

 تاریخ گواہ ہے کہ ان غریبوں نے وڈیروں کے لاکھ ظلم و ستم سہہ کر ماریں کھا کر گولیاں کھا کر عزتیں تار تار کروا کر بھی ان کے سامنے سینہ تانے رکھا مگر نا کوئی ہندو سے مسلمان ہوا اور نا ہی کوئی مسلمان سے ہندو ہوا  مگر منہج نبوی کا حسن سلوک انہیں مسلمان ہونے پر مجبور کر گیا اور یہی کام جماعت الدعوہ کا تھا کہ انسانیت کی خدمت کی جائے 

کچھ عرصہ بعد اس حسن سلوک مثل منہج نبوی کو دیکھ کر تھر کے ہندو اپنی مرضی سے ملسمان بھی ہوئے تھے جس پر پوری دنیا نے پروپیگنڈا کیا حتی کہ مسلمان ہونے والے سابق ہندوؤں کو عدالتوں میں وضاحت کرنا پڑی کہ ہم اپنی مرضی اور دعوت دین  سے بغیر کسی خوف و لالچ کے مسلمان ہوئے ہیں


یہ فلاح انسانیت والے اپنا کام کرتے گئے پاکستان میں مختلف موقعوں پر مختلف آفات میں انہوں نے اتنی جلدی اتنے بڑے پیمانوں پر کام کئے کہ گورنمنٹ آف پاکستان کے علاوہ امریکہ جیسی گورنمنٹ بھی کہنے پر مجبور ہو گئی کہ جہاں گورنمنٹ کے لوگ ،مشینری حتی کہ ہیلی کاپٹر تک  نہیں پہنچ سکتے وہاں یہ لوگ پہنچتے ہیں اور لوگوں کی مدد کرتے ہیں اور بغیر رنگ و نسل کے کرتے ہیں خاص کر 2005 کے زلزلے میں پوری دنیا نے ان کا فلاحی کام دیکھا اور یہ جماعت مقبول تر ہوتی گئی

ماضی میں جب ان پر مقدمات بنے ان کو جیلیں ہوئیں تب کورٹ ٹرائل اور سزائیں لینے کے بعد بھی سلطان ایوبی کے یہ روحانی بیٹے بیت المقدس کی شعور و آگاہی کیلئے کانفرنسیں جلسیں کرتے رہے جن میں شرکت کرنے والوں کی تعداد 10 لاکھ تک جا پہنچتی تھی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستانی بہت سے لوگ جو بیت المقدس سے واقف نا تھے انہوں نے بھی کشمیر کی طرح بیت المقدس کے لئے نعرہ لگانا شروع کر دیا 

لبیک یا رب الکعبہ ہم بیٹے حرم کے حاضر ہیں

یہ باتیں یہ کانفرنسیں یہ پروگرام انڈیا امریکہ اسرائیل کو ایک آنکھ پہلے ہی نا بھاتی تھیں سو اب ان کی جلن مذید تیز ہو گئی کیونکہ بلوچستان و سندھ کے پاکستان مخالف مسلح لوگ ہتھیار ڈال کر اس جماعت کے جھنڈے تلے جمع ہو کر نعرہ لگا رہے تھے کہ پاکستان زندہ باد 

  یہ باتیں عالم کفر خاص کر امریکہ انڈیا اسرائیل کے لئے ناقابل برداشت تھیں سو انہوں  نے اپنی لونڈی سلامتی کونسل کو استعمال کیا اور جولائی 2019 میں اس جماعت کو دہشت گرد قرار دلوا کر پابندیاں لگوا کر اس کے سربراہ و دیگر راہنماؤں کو نظر بند کروا دیا جس سے انسانیت کی بقاء کا کام بڑی حد تک رک گیا


گورنمنٹ آف پاکستان نے اس کے تمام اداروں، مراکز کو اپنی تحویل میں لے لیا اور ان پر دہشت گردی کے مقدمات بنا کر سزائیں دی گئی ہیں جن کی صرف اور صرف وجہ غیر ملکی دباؤ ہے حالانکہ آج دن تک ثابت نہیں ہو سکا کہ اس جماعت نے کبھی پاکستان و بیرون پاکستان کسی عسکری کاروائیوں میں حصہ لیا ہو حتی کہ انڈیا ممبئی حملوں کا الزام بھی ثابت نا کر سکا تھا مگر پھر بھی کفار کو خوش کرنے کیلئے اور ایف اے ٹی ایف کا بہانہ بنا کر ان کو پابند سلاسل کیا گیا 

کاش کہ یہ جماعت آج پابند سلاسل نا ہوتی تو آج پھر یہ یقیناً فلسطینی مسلمانوں کی پکار پر  مدد کو پہنچ کر کہتے


لبیک یا رب الکعبہ ہم بیٹے حرم کے حاضر ہیں

Monday, 10 May 2021

مقبوضہ بیت المقدس کی پکار کس کے لئے ہے؟ ازقلم غنی محمود قصوری




اس کرہ ارض کی کل آبادی 7.5 ارب ہے جن میں عیسائیوں کی تعداد 2.2 ارب مسلمانوں کی تعداد 1.8 ارب ہندوؤں کی تعداد 1 ارب سے کچھ زائد اور یہودیوں کی تعداد 1.4 کروڑ ہے 

اس لحاظ سے اسلام دنیا کا دوسرا بڑا مذہب ہے مگر افسوس کہ دنیا کا کوئی بھی کونا کشمیر ہو یا افغانستان شام ہو یا عراق فلسطین ہو یا برما ہر جگہ مسلمانوں پر ہی ظلم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں چند دنوں سے ظالم غاصب یہودی نے ظلمت کی حدیں پار کرکے گزشتہ دنوں مسلمانوں کے قبلہ اول بیت المقدس میں نماز تراویح ادا کرتے مسلمانوں پر شدید فائرنگ کی جس کے نتیجے میںں200 کے قریب مسلمان شدید زخمی ہوئے اسی طرح کشمیر میں ہندو کا ظلم بھی جاری ہے جو کہ دن بدن بڑھتا ہی جا رہا ہے 

مسلمانوں کی تاریخ کو دیکھا جائے تو فتوحات کا بہت بڑا سلسلہ ہمارے اسلاف نے انجام دیا جس کی عظیم ترین مثال  دور نبوی میں پہلا معرکہ بدر کی ہے

یہ معرکہ اسی بابرکت ماہ رمضان کی 17 تاریخ کو ہوا تھا جس میں مسلمانوں کی تعداد 313 اور کافروں کی تعداد 1000 تھی مسلمانوں کے پاس انتہائی کم وسائل سامان حرب و ضرب نا ہونے کے برابر تھا جبکہ مسلمانوں نے چل کر 155 کلومیٹر دور جانا تھا اور اوپر سے روزہ بھی جبکہ اونٹ 70 اور 2 گھوڑے میسر تھے 

مگر چشم فلک نے وہ نظارہ دیکھا کہ 1 ہزار  میں سے 70 کافر قتل کر دیئے گئے 70 قیدی بنا لئے گئے اور باقی کتے کی طرح دم دبا کر بھاگ نکلے 

مگر اس کے برعکس آج معاملہ الٹ ہے جس کی وضاحت اس حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں کی گئی ہے


رسول اللہ ﷺنے فرمایا،قریب ہے کہ (گمراہ) قومیں تمہارے خلاف اس طرح یلغار کریں گی جس طرح کھانے والے کھانے کھانے پہ ٹوٹ پڑتے ہیں 

کسی نے عرض کیا اس روز ہماری تعداد کم ہونے کی وجہ سے ایسا ہوگا؟

آپ ﷺنے فرمایا  نہیں  بلکہ اس روز تم زیادہ ہو گے  لیکن تم سیلاب کی جھاگ کی طرح ہو گے اللہ تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہاری ہیبت نکال دے گا اور تمہارے دل میں وہن ڈال دے گا

کسی نے عرض کیا، اللہ کے رسول وہن کیا ہے؟ 

آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا دنیا سے محبت اور موت سے نفرت۔۔ أبو داود 2297


اس حدیث سے آج مسلمانوں کی پستی کا پتہ چلتا ہے کہ ہمیں دنیاوی زندگی سے پیار ہے اور جہاد و قتال سے عدم دلچسپی جس کے باعث کافر قومیں ہم پر بھوکوں کی طرح ٹوٹ رہی ہیں

حتیٰ کہ مملکت اسلامیہ کے سربراہان نے جہادی تنظیموں پر پابندیاں لگا کر انہیں پابند سلاسل کیا ہوا ہے جس کے باعث کافروں کو مذید شہہ ملی

 حالانکہ اسلام دنیا کا دوسرا بڑا مذہب ہے اور ہم عیسائیوں کے علاوہ باقی سب سے زیادہ ہیں اور یہودی ناپاک تو ہمارے کسی کھاتے میں نہیں مگر یہودی نے قتال نا چھوڑا جبکہ ہم نے چھوڑ دیا یہی وجہ ہے کہ ایک چھوٹی سی ناجائز ریاست پوری دنیا پر حاوی ہو چکی ہے 

قرآن نے ہمیں غمی خوشی جینے مرنے کا سلیقہ سکھایا ہے مسلمانوں کے مقدس مقامات تو دور کی بات عام مسلمان کی پکار بھی ہو تو ہمارے لئے جہاد فرض ہو جاتا ہے جس کی وضاحت سورہ النساء کی اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالی نے کی ہے 


وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَاۚ-وَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّا ﳐ وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِیْرًاؕ (۷۵)


ترجمہ۔۔۔اور تمہیں کیا ہوگیا کہ تم اللہ کے راستے میں نہ لڑو اور کمزور مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر (نہ لڑو جو) یہ دعا کر رہے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اس شہرسے نکال دے جس کے باشندے ظالم ہیں اور ہمارے لئے اپنے پاس سے کوئی حمایتی بنا دے اور ہمارے لئے اپنی بارگاہ سے کوئی مددگار بنا دے


آج فلسطین،شام،افغانستان،عراق،برما و کشمیر کے علاوہ پوری دنیا کے لوگ ہم کو پکار رہے ہیں کہ ہماری مدد کرو اور روز ہم تک یہ آوازیں پہنچ رہی ہیں حالانکہ یہ قرآن ہر مسلمان ہر حکمران ہر ملک کے باشندے کیلئے اترا ہے

 جس طرح فلسطینیوں کی مدد پاکستانیوں پر فرض ہے ایسے ہی عربوں و دیگر مسلم ممالک و سربراہانِ مسلم مملکت پر فرض ہے جبکہ ماضی گواہ ہے کہ پاکستان نے اپنی بساط سے بڑھ کر اسرائیل کو عرب اسرائیل جنگوں میں جواب دیا جسے آج بھی یاد کرکے یہودی پاکستان کے خلاف زہر اگلتا ہے 

 یہ پکار بیت المقدس ہم سب کیلئے ہے ہمیں یک جان ہونا ہوگا اور ان کافروں کا مقابلہ کرنا ہوگا ورنہ وہ دن دور نہیں کہ ہم بھی اپنی آزادی خدانخواستہ کھو کر ان کافروں کی غلامی میں چلے جائیں بطور مسلمان سربراہان مملکت اسلامیہ 57 اسلامی ممالک پر فرض ہو چکا ہے کہ پکار بیت المقدس پر لبیک کہتے ہوئے اسرائیلی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے اور عام عوام پر فرض ہے کہ یہودی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کرکے اسے مالی نقصان پہنچایا جائے کیونکہ 1948 سے قبل یہود اتنے طاقتور نا تھے انہوں نے اپنے بڑوں کی رسم کو اعلیٰ جانا اور تجارت شروع کی اور آج دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا پر ان کی پراڈکٹس کا راج ہے جبکہ ہر یہودی ہوش سنبھالتے ہی مسلح عسکری تربیت حاصل کرتا ہے جبکہ اسلامی ممالک میں عسکری تربیت کو ایک بہت بڑا جرم سمجھا جاتا ہے 

تو پکار بیت المقدس پر  آگے بڑھیں اور جواب دیں بیت المقدس کی پکار کا کہ ہم ایوبی کے بیٹے آ رہے ہیں ان شاءاللہ

Wednesday, 5 May 2021

ہمت و شجاعت کا پہاڑ صحرائی دار فانی سے کوچ کر گیا ازقلم غنی محمود قصوری



 تحریک آزادی کشمیر کے روح رواں و سید علی شاہ گیلانی کے قریبی ساتھی  چیئرمین  تحریک حریت جناب محمد اشرف صحرائی گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں میں 77 برس کی عمر میں  انتقال کر گئے اناللہ وانا الیہ راجعون

یقینا ان کی وفات تحریک آزادی کشمیر  کیلئے ایک بہت بڑا دھچکا ہے 

وہ  ادہم پور سینٹرل جیل میں 2020 سے قید تھے  منگل کی دوپہر ان کو ناسازی طبع کے باعث جی ایم سی جموں میں لایا گیا ان کی صحت  کے بارے جیل حکام نے انکے اہل خانہ کو مطلع کیا  جبکہ مذہد ناسازی طبع پر انہیں وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا مگر   وہ جانبر نہ ہوسکے اور دار فانی سے کوچ کر گئے اناللہ وانا الیہ راجعون 

 ان کی وفات کی اطلاع رات  دس بجے نشر کی گئی 

جبکہ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ان  کوویڈ ریپڈ ٹیسٹ کرایا گیا تھا جو منفی آیا جس کے بعد انکا پی ٹی سی آر کرایا گیا جس کی رپورٹ کا انتظار تھا مگر وہ اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے رب کے حبیب پہنچ گئے 

محمداشرف صحرائی سید علی شاہ گیلانی کے بعد تحریک حریت کے سب سے  طاقتور لیڈر ہیں جنکی  زندگی زیادہ تر زندگی انڈین جیلوں میں گزری ہے انڈیا نے ان کو لاکھ پیشکشیں کیں مگر ہر بار انہوں نے ساری پیشکشیں ٹھکڑا دیں 


ان کی پیدائش  1944 کو موقع  ٹکی پوری لولاب ضلع کپوارہ میں شمس الدین خان کے ہاں ہوئی 

وہ دو بڑے بھائیوں سے چھوٹے ہیں محمد یوسف خان اور قمر الدین خان ان سے بڑے ہیں  جو کہ  دونوں بالترتیب 2016 اور 2009 میں دار فانی سے کوچ کر گئے 

یوسف صحرائی مرحوم  نے ابتدائی تعلیم ٹکی پورہ اپنے آبائی گائوں سے حاصل کی جبکہ میٹرک  1959 میں سوگام لولاب سے  پاس کیا جس میں انہوں نے ٹاپ کیا اور ان کا وظیفہ مقرر کیا گیا 

مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے انہوں نے ایم اے اردو کیا 

کشمیر کی آزادی کیلئے انہوں نے  

زمانہ طالب علمی  سے ہی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا تھا جس کے باعث وہ بہت جلد مقبول ہوتے چلے گئے 

ان کا  شاعری خاصا لگاؤ تھا اور انہوں نے آزادی کشمیر و فن و علوم پر بے شمار شاعری کی  

انہوں

  انہوں  نے اپنے اندر کے بہترین  صحافی کو باہر نکالا اور طلوع نامی  میگزین سوپور سے 1969 میں نکالنا شروع کیا جس پر انہیں انڈین گورنمنٹ کی طرف سے کافی تکالیف برداشت کرنا پڑیں مگر انہوں نے مردانہ وار مقابلہ کرکے طلوع آزادی کا سفر جاری رکھا 

مرحوم اشرف صحرائی کے سب سے  چھوٹے بیٹے جنید صحرائی نے 2018 میں آزادی کشمیر کی خاطر انڈین فوج کے خلاف  ہتھیار اٹھا لیا اور 2 سال انڈین فوج کو خوب ناکوں چنے چبوائے اور بالآخر  19مئی 2020کو انڈین فورسز کیساتھ جھڑپ میں عہدہ شہادت پر فائز ہو گئے 

مرحوم صحرائی 1959سے سید علی شاہ گیلانی کے دست راست بن  گئے تھے

1960میں وہ جماعت اسلامی کے رکن بھی بنے  جبکہ انہیں  پہلی بار  انڈین گورنمنٹ کے خلاف  سرگرمیوں کی پاداش میں 22 سال کی عمر میں  1965  میں وزیر اعلیٰ غلام محمد صادق  کی جانب سے گرفتار کروایا گیا 

 انہوں نے پابندیوں نظربندیوں کی پرواہ کئے بغیر طلوع نامی  میگزین پر ہی فوکس رکھا اور کشمیریوں میں جزبہ آزادی بیدار  کرنے کا سلسلہ جاری رکھا 

 مگر سخت پابندیوں کے باعث انہیں  1971 میں  میگزین بند کرنا پڑا 

 2004 میں تحریک حریت کی بنیاد ڈالی گئی تو جماعت اسلامی سے ان کے تعلقات اچھے نا رہے جس کی بدولت  سید علی شاہ گیلانی اور مرحوم صحرائی  کو جماعت سے برطرف کر دیا گیا مگر انہوں نے ہمت نا ہاری اور انہیں تحریک حریت کا جنرل سیکریٹری بنایا گیا

 2016-17 میں نیشنل انٹیلیجنس انڈیا  نے انہیں احتجاجی کلینڈر جاری کرنے اور ملک دشمن سرگرمیوں میں  ملوث قرار دیا گیا 

 19 مارچ 2018 کو انہیں تحریک حریت مجلس شوریٰ کا چیئر مین منتخب کیا گیا جبکہ اگلے تین سال وہ  چیئرمین  تحریک حریت رہے 

سید علی شاہ  گیلانی نے تحریک حریت سے کنارہ کشی اختیار کر لی

 19 اگست 2019 کو انڈین گورنمنٹ  فیصلے کے بعد سید علی شاہ گیلانی کو نظر بند کر دیا گیا 

جبکہ 12 جولائی 2020 کو مرحوم صحرائی کو  پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت حراست میں لیا گیا تب سے وہ انڈین قید میں ہی تھے 

انڈین گورنمنٹ کا بزرگ ترین حریت رہنماؤں کو زیر حراست رکھنا اور اقوام عالم کا خاموش رہنا انتہائی تکلیف کن ہے 

بہرحال صحرائی کے بعد یہ قافلہ تحریک آزادی رکے گا نہیں بلکہ اسی طرح چلتا رہے گا انڈیا تھک جائے گا مگر یہ کشمیری نا تھکے تھے نا تھکے گے ان شاءاللہ