معاشرہ طوائفیت میں ایک اور طوائف کا اضافہ ازقلم غنی محمود قصوری
اپنے رب کی طرف سے دیئے گئے حسن و شباب کو بیچنے والی کو طوائف،کنجری و بازاری عورت کہا جاتا ہے اور اس طوائف کی دلالی کھانے اور اس سے یہ گھناؤنا کام کرانے والی کو نائیکہ
اکثر نائیکائیں بھی کبھی طوائف رہ چکی ہوتی ہیں جب وہ اپنے حسن و شباب سے لوگوں کو خوش کر کر کے اپنی عمر پوری کر گزرتی ہے تو پھر وہ نائیکہ بن کر لوگوں کی ہوس پوری کروا کر اس گندگی کی کمائی کھاتی ہیں
حالانکہ اس بوڑھی نائیکہ کی ڈھلی جوانی کو اب نفسانی خوائش نہیں رہتی اسے کھانے پینے کے لئے اکثر اس کے پرانے یار مدد گار رہتے ہیں مگر وہ اپنا گندہ معاشرہ بڑھانا چاہتی ہے اور ایڑی چوٹی کا زور لگا کر عورتوں کو ورغلاتی ہے
بعض مرتبہ عورتوں کو بلیک میل کرکے اپنی قبیح عادت پوری کرتی ہے کیونکہ شرعی نظام سے بغاوت اس کو شیطان کی خاص قربت دلا چکی ہوتی ہے اور وہ مارے شہرت اور اپنی جھوٹی واہ واہ کی خاطر اپنا جسم بیچنے کی رسیا ہو چکی ہوتی ہے
گندگی کے اس ماحول میں رہ کر اس کا دماغ گندا ہوا ہوتا ہے جس کی خاطر وہ لوگوں کی بہنوں بیٹیوں کو طوائف بننے پر مجبور کرتی ہیں حالانکہ وہ جانتی ہے کہ ایک خاوند کی شرعی بیوی بن کر خاوند جہاں سے چاہے جیسے چاہے لاکر بیوی کو دیتے ہیں اور شہزادیوں کی طرح رکھتے ہیں مگر پھر بھی وہ عورتوں کو طوائف بنانے کیلئے ذہن سازی کرتی ہیں
طوائف جسم بیچتی ہے انتہائی گندہ کام کرتی ہے رب کے نظام سے بغاوت کرتی ہے مگر طوائف اپنے قول و فعل کی پکی ہوتی ہے وہ اپنے گاہکوں سے کبھی غداری نہیں کرتی کیونکہ اسے اس دھندے میں اپنا نام بنانا ہوتا ہے
طوائف سے بھی بڑھ کر ایک گھٹیا کام ہے جسے ضمیر فروشی کہا جاتا ہے
ضمیر فروش معاشرے کا سب سے بڑا ناسور ہوتا ہے جسے اپنے ایمان کو بیچتے کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوتی
حالانکہ ضمیر فروش جانتا ہوتا ہے کہ جو وہ کر رہا ہے وہ غلط ہے مگر معاشرے میں شہر و دولت کی ریل پیل اور اغیار کی چاکری اسے ضمیر بیچنے پر مجبور کرتی ہے
طوائف کے غلط اثرات چند غلط افراد تک ہوتے ہیں جبکہ ایک ضمیر فروش کے اثرات پورے معاشرے کو اپنی لپٹ میں لے لیتے ہیں چونکہ طوائفوں کا مخصوص علاقہ ہوتا ہے اور گھناؤنا کام کرنے والی بھی عورتیں ہی ہوتی ہیں
اس لئے گاہکوں کو آسانی رہتی ہے گھر گلی محلہ کے جاننے میں جبکہ ضمیر فروش ،مرد و عورت و بوڑھاو جوان عرضیکہ کوئی بھی ہو سکتا ہے جس کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا وہ ہر جگہ ہر وقت ضمیر فروشی کرتا ہے
ایک آدھ ضمیر فروش کی بدولت پورا ملک معاشرہ و قوم بدنام ہو جاتی ہے
یہ ضمیر فروش کسی بھی شعبہ زندگی سے ہو سکتا ہے
طوائف بوڑھی ہونے پر نائیکہ بنتی ہے یاں پھر روپوشی کی زندگی گزارتی ہے مگر ضمیر فروش عمر بھر ضمیر فروشی کرتا ہے حتی کہ زیادہ عمر ہونے پر سیانا ضمیر فروش بن جاتا ہے
اسی ضمیر فروش جیسا حال ہمارے معروف صحافی حامد میر صاحب کا ہے جنہوں نے اس مثل خاندان پاکستان کی ہمیشہ بغاوت ہی کی ہے حتی کہ کھل کر بنگلہ دیش میں پاکستان کی مخالفت میں تقریر کی اور اپنے باپ وارث میر کی دلالی بنگلہ دیش و انڈیا پر ایوارڈ حاصل کیا
یہی نہیں ان صاحب کا ہر جملہ پاکستان و افواج پاکستان کے مخالف رہا اور ماضی میں انہوں نے اپنے اوپر قاتلانہ حملے کا ڈھنڈورا پیتا اور اپنی مشہوری کرنے کی کوشش کی اور آزادی صحافت کا مفادی نعرہ لگایا حالانکہ گالیاں فوج کی دیں اور پھر بھی صحافت کی آزادی مانگی
کوئی سمجھدار اس سے پوچھے بھئی گالیاں دے کر بھی تم آزاد نہیں؟
ماضی میں اس پر ہوا خود ساختہ قاتلانہ حملہ بہت بری طرح فلاپ ہوا
مگر بجائے شرمندگی اور پروف دینے کے اس نے اپنی زبان کو افواج پاکستان و ملک پاکستان کے خلاف مذید تیز کر دیا
اب جبکہ یہ صاحب 55 سال کی عمر سے اوپر نکل چکے ہیں تو اب ان کو اپنی طوائفی جاتی ہوئی نظر آئی تو موصوف نے ایک نئی طوائف اسد طور کی صورت میں تیار کی تاکہ اب طوائفی ختم ہونے پر نائیکہ بن کر کمایا جا سکے اور معاشرہ طوافی میں ایک اور نئی طوائف کا اضافہ کیا جاسکے
سو اس ڈرامے کو حقیقت بنانے اور پاکستان و سیکیورٹی اداروں کو بدنام کرنے کیلئے اسلام آباد سیکٹر ایف الیون میں خود ساختہ صحافی، یوٹیوبر اسد طور کے فلیٹ پر ایک ڈرامہ رچایا گیا جس میں اسد طور نے واویلا کیا کہ تین مسلح اشخاص نے میرے فلائٹ میں زبردستی گھس کر میرے ہاتھ پاؤں باندھے اور مجھے پسٹل کی ہینڈ گرپ سے مارا اور مجھ سے زبردستی پاکستان زندہ باد کے نعرے لگوائے
مذید آگے وہی حامد میر صاحب والی سٹوری کی طرح ڈرامہ پہلے دن بازؤں پر لمبی چوری پٹی دوسرے دن تھوڑی سی پٹی اور آخر تیسرے دن اپوزیشن راہنماؤں کے ساتھ ملاقات میں مکمل پٹی اتری ہوئی جس میں واضع دیکھا جا سکتا ہے کہ چوٹیں ایسی ہیں کہ دیوار کے پلاسٹر کے ساتھ ہلکا سا رگڑا ہوا ہو اور ان پر رنگ لگایا گیا ہو
مزیدار بات یہ ہے کہ آج دن تک شاید کے کسی نے اسد طور صاحب کا نام ہی سنا ہو اور اب جناب ہر کسی کی زبان پر دھرائے جا رہے ہیں خاص کر ملک مخالف ملکی و غیر ملکی میڈیا پر
سوچنے کی بات ہے کہ ایک دبلے پتلے بندے کو کہ جسے ایک تندرست عورت زور سے تھپڑ مارے تو ایسے افراد اکثر بے ہوش ہو جاتے ہیں، کے ٹانگ،بازو وغیرہ یاں کوئی بھی اعضاء کیوں نا توڑے گئے یاں پھر اسے سیدھا گولی مار کر مکمل خاموش کیوں نا کیا گیا ؟
یہ لوگ جس آئی ایس آئی پر الزام لگاتے ہیں اس کی باتیں تو پوری دنیا کی زبان پر آتی ہیں کہ یہ جب جہاں چائیں اپنا کامیاب وار کرکے بغیر پہچان کرائے نکل جاتے ہیں تو پھر اس ممی ڈیڈی اسد طور کو آخر اسلام آباد میں ہی کیوں ٹارچر کیا گیا کیا
نیز کیا آئی ایس آئی والے اسے اپنے ساتھ لیجانے سے ڈرتے تھے؟
یہ ڈرامہ بھی سابقہ قاتلانہ حملہ حامد میر کی طرح فلاپ ہو چکا اور لوگوں کو پتہ چل چکا کہ بات صرف دلالی اور مشہوری کی ہے
اور اب ایک ضمیر فروش پرانی طوائف بوڑھی ہو چکی اور اب معاشرہ طوائفیت میں ایک اور نئی طوائف لا کر دلالی کھانا چا رہی ہے








