انٹرنیشنل وویمن ڈے پر نظر انداز عورتیں ہی کیوں؟ از قلم غنی محمود قصوری
کوپن ہیگن میں 1910 میں عالمی خواتین کانگرنس منعقد کی گئی اور پھر 8 مارچ 1913 کو پوری یورپ میں عورتوں نے حقوقِ نسواں کے لئے ریلیاں نکالیں اور عورت کے حقوق کا مطالبہ کیا جس کا مقصد عورت کو مار پیٹ اور جنسی زیادتی سے بچانا تھا تب سے پوری دنیا میں عالمی یوم خواتین منایا جا رہا ہے اور ایک بار پھر پوری دنیا میں انٹرنیشنل وویمن ڈے منایا جا رہا ہے جس میں عورت کے حقوق کا رونا رویا جائے گا حالانکہ دنیا اچھی طرح سے جانتی ہے کہ اسلام نے عورت کو مکمل حقوق دیئے بلکہ جنت کو عورت (ماں) کے قدموں تلے رکھا عورت (بیٹی) کو باعث رحمت بنایا اور فرمایا کہ جس نے دو بچیوں کی خوب اچھی طرح پرورش کی اور ان کی آسائشوں کا خیال کرکے ان کی شادی کر دی وہ جنت پائے گا
مگر آج عالمی حقوق کی ٹھیکیدار نام نہاد خواتین جن کو خواتین بھی کہتے ہوئے شرم آتی ہے وہ میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگائیں گیں اور پوری دنیا کو پیغام دینگی کہ معاذاللہ اسلام عورت پر تنگی کرتا ہے
وہ عورتوں کے حقوقِ کی ٹھیکیدار عورتوں کی آواز تو بنتی ہیں مگر اپنے مفاد کی خاطر اگر ان کو عورت کا مفاد عزیز ہوتا تو آج وہ کشمیری،فلسطینی،شامی،روہنگیا کی مظلوم مسلمان عورتوں کے لئے بھی آواز بلند کرتیں
واضع رہے کہ پوری دنیا اس بات کی گواہ ہے کہ عورت پر سب سے زیادہ ظلم و جبر انڈیا میں ہوتا ہے جہاں تقریبآ ہر عورت اپنے خاوند کے ساتھ کھیتوں کھلیانوں میں کام کاج کرنے کے علاوہ اپنا و اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے محنت مزدوری کرتی ہے اگر یقین نہیں تو دہلی،ممبئی کی سڑکوں پر بکتی عورتوں کو دیکھ لیں انڈیا میں عورت کو اپنے گھر میں آج بھی ٹوائلٹ تک میسر نہیں وہ اگر ٹوائلٹ جاتی ہے تو سڑک کنارے یا پھر کھیتوں کھلیانوں میں
انڈیا میں اوسطاً 92 عورتوں کے ساتھ روزانہ جنسی زیادتی کی جاتی ہے اور ان میں زیادہ تر تعداد دلت یعنی نچلی ذات کی عورتوں کی ہوتی ہے
اور تو اور انڈیا میں چلتی ٹرین و بس تک میں عورت کے ساتھ ریپ کیا جا چکا ہے
آج وہی انڈین گورنمنٹ اپنی انڈین عورتوں کیساتھ کشمیریوں عورتوں کے حقوق پر 1947 سے اور خاص کر 5 آگست 2019 سے شب و خون مارے ہوئے ہے واضع رہے کہ 1989 سے تحریک آزادی کی مسلح تحریک شروع ہونے تک انڈین فوج کی جانب سے 11500 عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور 2250 عورتوں کو شہید کیا جا چکا ہے نیز ان عورتوں کو انہی کے ملک و گھروں میں پابند سلاسل کیا گیا ہے جبکہ بزرگ حریت خاتون 59 سالہ آسیہ اندرابی کو بھی کہ جن کی زندگی کا بیشتر حصہ انڈین جیلوں میں گزرا وہ آج بھی انڈین گورنمنٹ کی زیر حراست ہیں
کیا مجال جو کسی عورت مارچ مارچ اور حقوق نسواں کی ٹھیکیدار نے آواز بلند کی ہو کہ اس بوڑھی عورت کو رہا کیا جائے
انڈیا نے آرٹیکل 370 ختم کر دیا جس سے کشمیری عورتوں کی آزادی بھی چلی گئی مگر کیا مجال کہ کسی کا منہ پھٹا ہو کہ نہیں یہ تو ان عورتوں پر ظلم ہے
ان حقوقِ نسواں کی نام نہاد عورتوں کو اگر عورت مظلوم نظر آئے گی تو پاکستان میں کہ جہاں عورت اپنی پوری عزت و آبرو سے پرورش پا کر وزیراعظم تک بن چکی جہاں عورت پائلٹ تک بن چکی جہاں عورت فوج میں میجر جنرل تک بن گئی جہاں آج بھی بیٹے جاتے وقت عورت (ماں) سے سر پر ہاتھ پھرواتے ہیں کیونکہ یہ عورت اللہ کے زیادہ قریب ہے تاکہ اس کی دعا لے کر اللہ کا قرب حاصل کیا جس سکے
مگر ان نام نہاد حقوقِ نسواں کی ٹھیکیدار عورتوں کا سارا زور عورت کے ڈوپتہ اتروانے پر ہے تاکہ فسق و فجور کو عام جا سکے
میں کہتا ہوں اگر یہ نام نہاد عورتیں حقوقِ نسواں کی اصلی علمبردار ہیں تو کشمیری عورتوں کو انصاف دلوائیں 1948 سے یہودی کے قبضے میں ظلم کی چکی میں پسنے والی فلسطینی ،بدھ مت کے ظلم سے تنگ روہنگیائی اور شام میں جنگ سے جلتی مرتی عورت اور افغانستان میں امریکی فوج سے روزانہ مرنے والی عورت بھی عورت حالانکہ اسی امریکہ سے 1908 میں حقوق نسواں کے لئے پہلا وویمن نیشنل کمیشن بنا تھا آج وہی امریکہ پوری دنیا کی عورتوں کا جنسی استحصال کر رہا ہے تو یہ لال لال والیاں امریکہ کو کیوں نہیں کہتی کچھ ؟ کیوں امریکہ و انڈیا کے جنگی جرائم جرائم پر خاموش ہیں؟
کیا ان عورتوں کو عورت کے سالن گرم کرنے،کپڑے سلائے کرنے اور چھوٹے موٹے گھریلوں کاموں پر ہی اعتراض ہے ؟
یہ عورت مارچ کرنے والیاں عورتوں کو ہی کیوں نظر انداز کرتی ہیں کیا وہ عورتیں نہیں؟؟




0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home