Sunday, 28 March 2021

اتائیت خود نہیں بڑھی اسے بڑھانے کی ذمہ دار خود ریاست ہے یک طرفہ فیصلے کے باعث ازقلم غنی محمود قصوری





اللہ تعالی فرماتے

 ہیںــدَاوٗدُاِنَّا جَعَلْنٰکَ خَلِیْفَۃً فِی الْاَرْضِ فَاحْکُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ ”ہم نے کہا : اے دائود علیہ السلام ! ہم نے تمہیں زمین می خلیفہ بنایا ہے ‘ لہٰذا تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو“

حق کے ساتھ فیصلے کرنے کا حکم چاہے کوئی امیر ہو یا غریب مگر افسوس کہ موجودہ قانون صرف غریب کے گرد ہی گھیرا تنگ کرتا ہے 

فرمان نبی ذیشان صلی اللہ علیہ وسلم ہے 


 کہ تم سے پہلی قوموں کو اس لیے تباہ کر دیا گیا کیونکہ جب امیر کوئی چوری کرتے پکڑا جاتا، اسے چھوڑ دیا کرتے تھے لیکن جب یہی جرم کوئی غریب کرتا تو اس کے ہاتھ کاٹ دیتے تھے، خدا کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، اگر یہی جرم میری بیٹی فاطمہ بنتِ محمد ﷺ بھی کرتیں تو میں ان کا ہاتھ کاٹ دیتا۔ الحدیث


آج ہم بات کرینگے اتائیت کے پھیلاؤ اور اس کے سدباب کی مگر گورنمنٹ کی طرف سے نا تو اس کا نعم البدل دیا جا رہا ہے نا ہی ہزاروں روپیہ فیسوں کی مد میں لینے والوں اور کمیشن کے چکر میں لوگوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کرنے والے ایم بی بی ایس ڈاکٹروں کو پوچھ گچھ کرنے لے ساتھ ان کیلئے سزائیں مقرر کی گئی ہیں کیونکہ ایم بی بی ایس ڈاکٹرز بااثر اور امیر گھرانوں کے ہیں جبکہ آج وہی نظام بھرتا جا رہا ہے کہ امیر کے لئے رعایت اور غریب کیلئے سختی ہے اور اسی نظام کیلئے سخت وعید کی گئی ہے 


اس کرہ ارض پر کوئی بھی کام خود بخود نہیں ہوتا اسے سرانجام دیتا پڑتا ہے بعض مرتبہ کسی کام کو کرتے ہوئے اس کے متبادل کام بھی ہو جاتے ہیں مگر کسی بھی کام کا خوبخود ہو جانا ناممکن ہے

ریاست کا کام اپنے باشندوں کی ہر ضرورت کو پورا کرنا ہوتا ہے چاہے کسی کی آمدنی کم ہو ریاست کا فرض ہوتا ہے اس کی معاونت کرے اور اسے بھی دوسرے لوگوں کی طرح باوقار زندگی جینے کا موقع دے تاکہ معاشرہ پرامن رہے بصورت دیگر مطلوبہ ماندہ بندہ اپنی جائز خواہش کو پورا کرنے کیلئے غیر قانونی کام کرے گا جس سے معاشرہ پرامن نہیں رہتا


ہمارا المیہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر چیز کا فقدان ہے خاص کر صحت کی سہولیات نا ہونے کے برابر ہیں حالانکہ صحت جیسی بنیادی سہولیات فراہم کرنا ریاست کا اولین فرض ہے مگر آج صحت کے رکھوالے لوگوں کی جیبوں پر سرعام ڈاکے ڈال کر دنوں میں اربوں روپیہ کما رہے ہیں حتی کہ حج و عمرہ جیسا مقدس فریضہ بھی میڈیسن کمپنیوں کے پلے سے کیا جاتا ہے اور پھر وہ کمپنی دو نمبر دوائیاں انہی سے لکھوا کر اپنا خرچ پورا کرنے کیساتھ ہزاروں گنا منافع بھی لیتی ہے مگر قانون آنکھیں بند کئے ہوئے ہے


بیمار ہونا ایک فطری عمل جبکہ اس بیماری کا علاج کروانا ایک ضروری عمل ہے

 

بیماریوں کا علاج مختلف طریقوں سے کیا جاتا ہے جیسا کہ طب، ہومیو پیتھک ،ایلوپیتھک  و علاج بذریعہ غذا

ہر تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں دونوں رخوں کو دیکھ کر ہی درست فیصلہ کیا جا سکتا ہے بصورت دیگر یک طرفہ فیصلہ درست نہیں ہوتا 


چند سالوں سے اتائیت کو ختم کرنے کا ہر طرف سے شور ہے خاص طور پر محکمہ صحت  و ایم ںی بی ایس ڈاکٹرز کی طرف سے مگر اس کا نعم البدل کیا ہے اور اتائیت کیوں پروان چڑھی اور اس کا نعم البدل کیا ہے صرف انہیں باتوں پر اکتفا کیا جاتا ہے کہ اس اتائیت کو راتوں رات ختم کیا جائے یہ معاشرے کا ناسور ہے 


سب سے پہلے تو ہم جانتے ہیں کہ اتائیت پروان کیوں چڑھی جب یہ اپنی افزائش کر رہی تھی تو اسے ختم کیوں نا کیا گیا اب جبکہ غریب غرباء کی یہ مجبوری بن چکی ہے تو اسے کیوں ختم کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے


سب سے پہلے تو 1972 میں پیرامیڈیکس کے حقوق پر ڈاکہ اس طرح مارا گیا کہ انگریز دور سے جاری ڈپلومہ LMFS  کو ختم کیا گیا جو کہ قیام پاکستان سے قبل ہی کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور سمیت ملک کے ہر سرکاری ادارے میں کروایا جا رہا تھا اس کورس کی مدت شروع میں دو سال جبکہ بعد میں چار سال کر دی گئی تھی اس کورس کا حامل فرد قانونی طور پر محدود پریکٹس و سرجری کر سکتا تھا حالانکہ یہ افراد ڈاکٹر نا تھے مگر یہ افراد اسسٹنٹ ڈاکٹر کہلاتے تھے اور باقاعدہ محدود پریکٹس و سرجری کرتے تھے جن سے غریب غرباء اور معمولی علاج معالجے کے حامل لوگ فیص یاب ہوتے تھے مگر 1972 میں اسے ختم کر دیا گیا  

اس ڈپلومے کو کس کے کہنے پر کیوں ختم کیا گیا یہ سوال بہت سے شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے 


اسی طرح گورنمنٹ و پرائیویٹ ہسپتالوں سے ڈسپنسر کا کورس کرنے والے افراد کو بھی محدود میڈیکل پریکٹس کی اجازت نہیں ہے حالانکہ ہمارے سارے ڈی ایچ کیو٫ٹی ایچ کیو،آر ایچ سی،بی ایچ یو میں یہی لوگ ڈاکٹرز کی موجودگی و غیر موجودگی میں اسسٹنٹ ڈاکٹر ہوتے ہیں پیشاب کی نالی لگانا،انجیکشن لگانا ،مریض کے زخموں کی سلائی کرنا نیز ڈاکٹر سے زیادہ کام انہی سے لیا جاتا ہے مگر افسوس ان کو بھی محدود پریکٹس کی اجازت نہیں حالانکہ ہمارے ہاں کچہریوں میں وکیل کی جگہ اس کا وہ منشی پیش ہو کر نئی تاریخ لے لیتا ہے جو کہ پرائمری بھی پاس نہیں ہوتا جبکہ یہ ڈسپنسرز کم از کم  میٹرک سائنس کے ساتھ پاس ہوتے ہیں 

مگر پھر بھی محدود پریکٹس ہسپتال ٹائم کے بعد نہیں کر سکتا جو کہ سراسر زیادتی ہے


اتائیت غربت کی بدولت بھی بڑھی ہے آج مزدور کی مزدوری 8 سو روپیہ جبکہ ایک عام ایم بی ںی ایس ڈاکٹر کی چیکنگ فیس کم از کم  300 روپیہ بغیر دوائی کے ہے اگر دوائی ملا لی جائے تو نسخہ 1000 سے اوپر پہنچ جاتا ہے اس لئے لوگ گلی محلوں میں بیٹھے ڈسپنسرووں و دیگر پیرامیڈیکس سے دوائی لیتے ہیں جن میں سے بیشتر ڈسپنسر یا پھر کسی بھی ایم بی بی ایس ڈاکٹر کے اسسٹنٹ کام کرکے تجربہ حاصل کر چکے ہوتے ہیں مگر ان کو آج اتائی یا کوائیک کہا جاتا ہے اور ہیلتھ کئیر کمیشن ان کے خاتمے کے لئے دن رات کوشاں ہے مگر افسوس کہ ان میں سے بیشتر وہ افراد ہیں جو 50 سال سے بھی زیادہ وقت سے پریکٹس کر رہے ہیں اور اب اس بڑھاپے میں ان کو اپنے روزگار کے ختم ہونے کا خدشہ ہے جبکہ قانونی طور پر ان سے ہسپتالوں میں کام بھی لیا جا رہا ہے 


گورنمنٹ اگر اتائیت ختم کرنے میں مخلص ہے تو ان اتائیوں کو متبادل روزگار دے تاکہ یہ لوگ بے روزگار ہونے پر چور ڈاکو بن کر معاشرے کا ناسور نا بن سکیں کیونکہ جتنا حق ایک ایم بی ںی ایس ڈاکٹر کا اس ملک پر ہے اتنا ہی ان اتائیوں کا بھی ہے

وب سے بہتر حل یہی ہے کہ ان لوگوں کو ٹریننگ دے کر محدود پریکٹس کی جازت دی جائے تاکہ غریب غرباء انہی غریبوں سے اپنی معمولی نوعیت کی بیماریوں کا علاج کروا سکیں

 

ماضی سے لے کر اب تک ملک دشمنی میں سرگرم خارجی افراد کے لئے آفر ہے کہ وہ ہتھیار ڈالیں تو ان کو سرعام معافی کیساتھ اچھا روزگار دے کر نارمل زندگی گزارنے کا موقع دیا جاتا ہے حالانکہ ان لوگوں نے درجنوں لوگوں کو ناحق قتل کرنے کیساتھ سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو بھی شہید کیا ہوتا ہے 


اگر خارجیوں دہشت گردوں  کیلئے سرعام معافی کیساتھ اچھا روزگار و مالی معاونت ہے تو ان اتائیوں کے لئے کیوں نہیں؟ کیا یہ سرعام منشیات فروشوں سے بھی برے ہیں؟ کیا ہزاروں وارداتیں میڈیا پر ایسی نہیں جن میں ہمارے ایم بی بی ایس ڈاکٹرز مریضوں کے جسموں میں دوران آپریشن تولیہ و آلات جراحی تک بھول گئے جس سے لوگوں کی زندگیاں خراب ہوئیں؟ ایسے کئی سینئر ڈاکٹرز پکڑے بھی گئے جو لوگوں کے گردے و دیگر اعضاء بیچ ڈالتے رہے ؟؟؟ کیا کیا گیا ان کے خلاف کسی کو آج دن تک نہیں بتایا گیا کیونکہ وہ افراد بااثر ہوتے ہیں


نیز گورنمنٹ سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کے رویے کو بہتر کرنے کے ساتھ ہر قسم کی دوائی ہسپتال میں مہیا کرے اور ڈاکٹروں کی کمی پوری کرے جبکہ گاؤں دیہات میں فی گاؤں کم از کم ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر مقرر کردہ جائز فیس کے ساتھ تعینات کیا جائے جو دن رات میسر ہو جیسا کہ دن رات اتائی میسر ہوتا ہے اور لوگوں کے گھروں تک میں جا کر دوائی دے آتا ایسا کرنا اس لئے لازم ہے  تاکہ لوگوں کو اتائیوں کا نعم بدل مل سکے اور وہ ہر وقت معمولی بیماریوں کا علاج اپنی دہلیز پر ہی پا سکیں 


پورے پاکستان کے ایم بی بی ایس ڈاکٹروں کی ڈگریاں چیک کی جائیں جن کے پاس جعلی ہیں ان کو سزا دی جائے اور ہر ڈاکٹر کی فیس مزدوری کی فی زمانہ مزدوری کے حساب سے مقرر کی جائے اور زائد فیس لینے والے ڈاکٹر کو تاحیات پریکٹس سے روک دیا جائے تاکہ پتہ چل سکے کہ ریاست غریب عوام کو صحت کے نام پر لٹنے سے بچانا چاہتی ہے کیونکہ آج 100 میں سے 94 ڈاکٹر بڑے گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں غریب تو میٹرک پاس کرکے فکر مند رہتا ہے کہ اب پتہ نہیں کسی پرائیویٹ فیکٹری میں نوکری بھی ملے گی کہ نہیں

مگر یہ امراء کے ڈاکٹرز روزانہ لاکھوں روپیہ یومیہ کماتے ہیں جن میں سے بیشتر میڈیکل ریپ کی وساطت سے گاڑیاں،گھر،بجلی کے بل و ہر ضرورت پوری کرتے ہیں حتی کہ حج و عمرہ بھی میڈیسن کمپنیاں کرواتی ہیں ظاہری بات ہے جو کمپنیاں اتنی کچھ کرتی ہیں ان کی دو نمبر ادویات بیچنے سے ہی سارا کچھ پورا ہوتا ہے لہذہ اس کام کو فوری روکنے کیلئے ادارہ قائم کیا جائے تاکہ کوئی اپنی لالچ کی خاطر دو نمبر ادویات بیچ کر لوگوں کی زندگیاں داؤ پر لگا کر مراعات نا حاصل کر سکے


جب تک گورنمنٹ صرف امراء ایم بی بی ایس ڈاکٹرز کی سن کر ہی فیصلے کرے گی تب تک لوگ مایوس رہینگے اگر گورنمنٹ اپنے تمام باشندوں سے برابر سلوک کرنا چاہتی ہے تو پھر پیرا میڈیکس کو محدود پریکٹس کی اجازت لازمی دی جائے بصورت دیگر ایم بی بی ایس ڈاکٹرز اپنی من مانی فیسوں سے غریبوں کی جیبوں پر سر عام ڈاکہ ڈالتے رہینگے اور میڈیسن کمپنیوں سے ساز باز ہو کر مراعات لے کر دو نمبر ادویات لکھتے رہینگے اور غریب مرتا رہے گا

خدارا فرق ختم کیجئے پیرامیڈیکس کے جائز مطالبات پورے کیجئے تاکہ پتہ چل سکے قانون غریب امیر کیلئے ایک ہے

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home