آخر 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منانے کا مقصد کیا ہے از قلم غنی محمود قصوری
ہر سال کو 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے مگر اسے منانے کا مقصد کیا ہے ؟
ریاست جموں و کشمیر کا کل رقبہ تقریبا 84000 مربع میل ہے جس میں سے 70 فیصد پر انڈیا 1947 سے قابض ہے جبکہ باقی 30 فیصد کا علاقہ ریاست آزاد جموں و کشمیر ہے اس وقت ریاست جموں و کشمیر کی کل آبادی 1 کروڑ سے زیادہ ہے
80 لاکھ سے زاہد باشندے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہندو کی غلامی و ظلم و جبر کے سائے تلے زندگی گزار رہے ہیں اور اس جںر و ظلم میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے ہندو نے مقبوضہ وادی کو اس وقت دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا رکھا ہے جس میں ہر دس کشمیریوں پر ایک ہندوستانی فوجی بندوق تانے کھڑا ہے
قیام پاکستان سے ایک صدی قبل 1846 میں مسلمانوں کے دشمن انگریز نے ریاست جموں و کشمیر کو ڈوگرہ راجہ غلام سندھ کو اس وقت کے 75 ہزار سکہ رائج الوقت کے عیوض بیچ کر کشمیریوں کو غلامی کی دلدل میں دھکیلا تھا
ایک بار پھر کشمیریوں کی آزادی پر شب و خون مارتے ہوئے 26 اکتوبر 1947 کو اس وقت کے مہاراجہ ہری سنگھ نے مسلمانان جموں و کشمیر اور معائدہ تقسیم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیریوں کی مرضی کے خلاف الحاق بھارت کا اعلان کیا جسے غیور کشمیریوں نے نہ مانا
کیونکہ یہ طے پا چکا تھا کہ مسلمان اکثریت والے علاقے پاکستان اور ہندو اکثریت والے علاقے بھارت میں شامل کئے جائینگے
مسلمانان جموں و کشمیر مہاراجہ ہری سنگھ کے اس فیصلے کے خلاف سیخ پا ہو گئے کیونکہ وہ شروع سے ہی نعرہ لگاتے آئے تھے کشمیر بنے گا پاکستان جبکہ کشمیر و پاکستان کی آزادی کیلئے غیور کشمیریوں نے بے شمار قربانیاں بھی دیں جو کہ تاریخ میں سنہری حروف کیساتھ رقم ہیں
مسلمانان مقبوضہ جموں و کشمیر کا عصہ مہاراجہ کے فیصلے کے خلاف بڑھتا گیا اور انہوں نے اس غلط فیصلے کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے مظاہرے کئے اور اپنی آزادی کیلئے پاکستان کے مسلمانوں کو پکارا اور یوں پاکستان و ہندوستان کے مابین پہلی جنگ قیام کے تھوڑے عرصے بعد ہی لڑی گئی اکتوبر 1947 سے 1 جنوری 1949 تک کی اس جنگ میں بھارت کو پاکستانی قبائلیوں اور فوج کے علاوہ غیور کشمیریوں سے منہ کی کھانی پڑنی اور اس مشترکہ جدوجہد کے نتیجے میں ریاست آزاد جموں و کشمیر کا قیام عمل میں آیا آج جس کا دارالحکومت مظفر آباد ہے
اس آزاد ریاست کشمیر کی اپنی آزاد سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ ہے اس کا اپنا علیحدہ صدر و وزیراعظم ہے اس کا اپنا الگ آزاد نظام ہے جو اس کی آزادی کا منہ بولتا ثبوت ہے جبکہ ساری دنیا بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں ہوتے ظلم و جبر کو جانتی ہے نیز مقبوقہ کشمیر میں ساری سرکار ہندو بنئیے کی اپنی ہے ہندوستان سے ہندوؤں کا لا کر بسایا جا رہا ہے
غیور مسلمانان کشمیر و پاکستان کی طرف سے شروع کی جانے والی یہ جنگ مقبوضہ کشمیر سے شروع ہو کر پورے بھارت کو اپنی لپٹ میں لے رہی تھی جس سے بھارتی سرکار سخت پریشان ہو گئی کیونکہ شروع میں ہی ان کی توقعات کے خلاف علاقہ ان کے ہاتھوں سے چلا گیا تھا اور کشمیریوں کا سارا رخ پاکستان کی طرف تھا اس صورتحال کو بھانپتے ہوئے اس وقت کے بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے سلامتی کونسل میں جاکر منت سماجت کی کہ جنگ بندی کروائی جائے کیونکہ نہرو جان چکا تھا کہ ریاست آزاد جموں و کشمیر کے قیام کے بعد اب یہ جنگ نہیں رکنے والی اس کا دائرہ کار روز بروز وسیع تر ہوتا جا رہا تھا اور یہ جنگ پوری مقبوضہ وادی کشمیر کو آزاد کروا کے بھارت تک تقریبا پہنچ چکی تھی
پنڈت جواہر لال نہرو نے سلامتی کونسل پہنچنے میں عافیت جانی کیونکہ اسے علم تھا سلامتی کونسل میں بیٹھے انسان نما جانور جنگ بندی کا اعلان کرکے اس کو دوام بخشیں گے اور تیزی سے پھیلتی آزادی کی اس جنگ کو رکوا لینگے
یکم جنوری 1948 کو سلامتی کونسل میں نہرو پہنچا اور 5 فروری کو سلامتی کونسل نے رائے شماری کا وعدہ کرتے ہوئے جنگ بندی کا اعلان کیا
ایک سال دو ماہ اور دس دن کی اس جنگ میں دشمن کو دن میں تارے نظر آ گئے تھے اور نقصان اس کی سوچ سے بڑھ کر تھا
سلامتی کونسل و نہرو نے دنیا اور مقبوضہ کشمیر کے باسیوں سے رائے شماری کا وعدہ کیا اور کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ریفرنڈم کروایا جائیگا جس میں مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کو حق دیا جائے گا کہ وہ انتخاب کر سکیں کہ انہوں نے الحاق ہندوستان کرنا ہے یا پاکستان یا پھر آزاد خود مختار ریاست کشمیر بنانی ہے سو کشمیریوں اور اقوام عالم نے ہندو اور سلامتی کونسل کی باتوں پر یقین کیا اور جنگ بندی کیلئے آمادگی ظاہر کر دی گئی مگر بھارت 48 سے ابتک اپنے وعدہ استصواب رائے سے انکاری ہی چلا آ رہا ہے
اب تک مقبوضہ کشمیر کو عالمی متنازع علاقہ تسلیم کرتے ہوئے کل 18 قرار دادیں منظور کی جا چکی ہیں جن میں بھارت کو مقبوضہ کشمیر سے اپنی فوجیں نکالنے اور سلامتی کونسل و بھارت کے وعدے کیمطابق ریفرنڈم کروانے کا کہا جا چکا ہے تاکہ کشمیری رائے شماری کے ذریعے اپنی آزادی کا انتخاب کر سکیں مگر افسوس کہ ہر بار بھارت انکاری رہا اور اب بھی انکاری ہی ہے اس بھارت کی اس غنڈہ گردی پر سلامتی کونسل و عالمی برادری اب تک کچھ بھی نہیں کر پائیں
سلامتی کونسل و بھارت کو اس کا کیا گیا وعدہ یاد کروانے کیلئے 5 فروری کو پوری دنیا میں یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے تاکہ اقوام عالم بھارت پر دباؤ ڈال کر کشمیریوں کو ان کا حق رائے شماری دے کیونکہ سلامتی کونسل کا فرض ہے کہ وہ کشمیریوں کو ان کا حق دلوائے
بھارت و ہورا عالم کفر جانتا ہے کہ 1947 سے اب تک سخت بھارتی پہرے ، ظلم و جبر میں رہتے ہوئے مظلوم کشمیری ایک ہی نعرہ لگا رہے ہیں
کشمیر بنے گا پاکستان ،تیرا میرا رشتہ کیا لا الہ الا اللہ
اور اسی نعرے پر عمل پیرا ہو کر کشمیری اب تک 1 لاکھ سے زائد شہادتیں ہزاروں ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت دری کروانے کے باوجود اسی نعرے پر قائم ہیں اور قائم ہی رہینگے
ویسے تو ہر وقت پاکستانی پرچم مقبوضہ وادی کشمیر کے گلی محلوں ،گھروں ،بازاروں میں ہر وقت لہراتا رہتا ہے مگر 5 فروری کو بطور خاص ہر گھر میں پاکستانی پرچم لہرایا جاتا ہے اور انڈین فوج کی ایک سپیشل ونگ ان پرچموں کو اتارتی ہے مگر کشمیری پھر اس سبز ہلالی پرچم کو لہراتے ہیں
جہاں 5 فروری کو کشمیری غیور مسلمان بھارت و سلامتی کونسل کی وعدہ خلافی کے خلاف پوری دنیا میں احتجاج کرتے ہیں وہاں پاکستانی قوم بھی اپنے کشمیری بھائیوں کیساتھ سلامتی کونسل و بھارت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ان کو اپنے کشمیری بھائیوں کی آزادی کی صدا سنواتے ہیں اور دنیا کو یاد کرواتے ہیں کہ کشمیریوں کا نعرہ تیرا میرا رشتہ کیا ؟
لا الہ الا اللہ
کے تحت ہم یک دل یک جان ہیں اور جہاں کشمیریوں کا پسینہ گرنے گا وہاں پاکستانیوں کا خون گرے گا
واضع رہے کہ انڈیا نے کشمیریوں کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے 5 اگست 2019 سے ظلم و جبر کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے تاکہ اس ظلم کی ہیبت سے کشمیری الحاق پاکستان کو بھول کر الحاق ہندوستان کر لیں مگر آفرین ہے کشمیریوں پر کہ جن کا نعرہ آزادی آئے روز بلند سے بلند ہوتا جا رہا ہے اور اسے جذبے و ولوے سے بھارت پریشان ہے اور اس ولولے کو دبانے کیلئے آئے روز فوجی قوت میں اضافہ کیا جا رہا ہے مگر ان شاءاللہ ناکام بھارت کا مقدر تھی ہے اور رہے گی
ان شاءاللہ



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home