Friday, 26 February 2021

سرجیکل سٹرائیک اور انٹرنیشنل سرپرائز ڈے ازقلم غنی محمود قصوری






فرد ،قبیلے،خاندان اور ممالک کی عزت کا پتہ اس کے پڑوس سے لگتا ہے کہ وہ کس قدر حقوقِ ہمسائیگی کا ادا کرنے والا ہے اگر اس کے ہمسائے اس سے خوش ہونگے تو اس کی عزت کی گواہی سب سے پہلے اس کے پڑوس سے ملے گی 

ہمارے پڑوس میں بھارت بھارت نامی ملک واقع ہے جس کی شر سے اس کے ہمسائے سب سے زیادہ متاثر ہیں 

چائنہ،پاکستان ،بنگلہ دیش،بھوٹان،میانمار،نیپال غرضیکہ کوئی بھی ہمسایہ اس کے شر سے محفوظ نہیں یہی وجہ ہے کہ انڈیا کی اپنے پڑوسی پاکستان سے ابتک 1947,1965,1971 اور 1999 میں کارگل جنگ ہو چکی ہے جبکہ لائن آف کنٹرول پر ہر گھنٹے ہی کشیدگی رہتی ہے چائنہ سے بھارت کی جنگ 1962 میں ہو چکی ہے نیز بنگلہ دیش ،بھوٹان میں بھی انڈین شر انگیزی کے ثبوت ملے ہیں تاہم سب سے زیادہ پاکستان بھارت کے شر کا شکار ہے جنگوں کے علاوہ بھارت نے اپنی دشمنی برقرار رکھنے کے لئے پاکستان کے اندر  کئی علیحدگی کی خودساختہ تحریکیں چلائی ہوئی ہیں جن کے تعلقات بھارت سے ثابت ہوئے اور عالمی برداری نے بھی وہ ثبوت مانیں 

بھارت نے 1947 سے ہی کشمیر پر جبری قبضہ کر رکھا ہے جس کے لئے کشمیری اپنے جانوں کے نذرانے دینے کے ساتھ انڈین فوج کو ناکوں چنے بھی چبوا رہے ہیں مگر بھارت اپنی ناکامی چھپانے کیلئے الزام پاکستان پر لگاتا ہے تاکہ دنیا کو غلط حقائق بتائے جا سکیں مگر دنیا جانتی ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر پر ناجائز قابض ہے 

14 فروری 2019 کو پلوامہ میں انڈین سی آر پی ایف کا کانوائے گزر رہا تھا کہ انڈین فوج سے دل برداشتہ کشمیری عادل احمد ڈار نے اپنی بارود سے بھری کار سی آر پی ایف کے کانوائے سے ٹکڑا دی جس کے نتیجے میں 46 فوج مردار اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے حسب سابق کی طرح بھارت نے الزام پھر پاکستان پر لگا دیا حالانکہ عادل احمد ڈار کی ویڈیو بھی خودکش حملے کے بعد وائرل کی گئی جس میں اس نے انڈیا کو مزہ چکھانے اور انتقام لینے اور انڈین فوجیوں کو کشمیر چھوڑنے کا عندیہ دیا ہے  مگر بھارت نا مانا اور دھمکیاں دینے لگا جس سے لائن آف کنٹرول پر حالات سخت کشیدہ ہو گئے 

26 فروری کی رات بھارتی جنگی جہاز نے ایل او سی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی حدود کو روندا جس پر پاک فضائیہ کے شاہین فوری جھپٹے مگر بزدل ہندو جان بچانے کی خاطر اپنا پے لوڈ پھینک گیا تاکہ سپیڈ کم نا ہو اور بھاگنے میں آسانی رہے پیڈ لوڈ بالاکوٹ نامی قصبے کے قریب گرا جس سے دھماکہ ہوا اور اسی دھماکے کو بنیاد بنا کر بھارت سرکار نے سرجیکل سٹرائیک کا دعوی کر دیا اور کہا کہ ہم نے ایل او سی کے پار جا کر پاکستانی علاقے میں مجاھدین کے ٹریننگ کیمپ تباہ کئے ہیں جن میں ہزاروں مجاھدین شہید ہو گئے ہیں 

بھارت کی اس حماقت پر ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس کی اور اور دنیا کو مخاطب کرکے سرجیکل سٹرائیک کے جھوٹے دعوے کو سچ کرنے کا عندیہ دیا اور کہا کہ بھارت سرپرائز کیلئے تیار رہے 

27 فروری 2019 کی صبح دو پاکستانی لڑاکا طیاروں نے ایل او سی کو کراس کیا اور مقبوضہ کشمیر کے راجوڑی سیکٹر میں انڈین علاقے میں چکر کاٹے تاکہ پتہ چل سکے سرجیکل سٹرائیک کیسے کیا جاتا ہے اور سرپرائز کیسے دیا جاتا ہے پاکستانی طیاروں کو دو انڈین طیاروں نے گھیرا تو پاکستانی شاہینوں نے سرجیکل سٹرائیک کرتے ہوئے انہیں نشانہ بنایا جن میں سے ایک انڈین طیارہ انڈین مقبوضہ کشمیر کی  حدود جبکہ دوسرا پاکستانی علاقے میں گھرا اور پاکستانی جانباز باحفاظت اپنی پاک سرحد پر اتر گئے 

پاکستان میں گرنے والے طیارے کے پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کرکے میڈیا کے سامنے لایا گیا جس نے اعتراف کیا 

پوری دنیا 27 فروری کو پاکستان کی طرف سے دیئے گئے سرپرائز کو بڑی حیرت سے دیکھ رہی تھی کہ پاکستان نے جو کہا کر کے دکھایا ناکہ انڈیا کی طرح جھوٹے دعوے کرنے پر ہی اکتفا کیا 

27 فروری کو بھارت کی بولتی بند تھی اور ہوری دنیا انٹرنیشنل سرپرائز پر بھارت پر تھو تھو کر رہی تھی اور انٹرنیشنل میڈیا پاکستانی افواج ذور خاص کر پاکستان ائیر فورس کی تعریف کر رہا تھا اور مان رہا تھا کہ کہہ کر کرنے والے سرجیکل سٹرائیک کو سرپرائز ہی کہا جاتا ہے

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home