یوم یکجہتی کشمیر بھی اور بزور شمشیر بھی ازقلم غنی محمود قصوری
موجودہ مقبوضہ کشمیر کی تاریخ پہ نظر دوڑائیں تو ہر دن ہندو پلید کا ظلم ہی نظر آئے گا کشمیری قوم پہ،مگر اس سے قبل ہندو کی طرح انگریز و سکھ مہاراجاؤں کا انتہائی ظلم بھی کشمیری قوم برداشت کر چکی جو کہ تاریخ میں انتہائی مکروہ الفاظ میں رقم ہے
ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1846 میں معائدہ امرتسر جسے ٹریٹی آف امرتسر بھی کہا جاتا ہے، کہ عیوض سکھ ظالم جابر سکھ مہاراجہ کشمیر ہری سنگھ کے بعد آنے والے کشمیری مہاراجہ گلاب سنگھ سے ساز باز کرکے اس وقت کے سکہ رائج الوقت تقریباً 75 لاکھ میں کشمیر کا سودا کیا
حالانکہ ہارا سکھ مہاراجہ تھا مگر قیمت کشمیری قوم کی آزادی سے ادا کی گئی
کشمیری مہاراجہ گلاب سنگھ اتنا خبیث انسان تھا کہ اس وقت ایسٹ انڈیا کمپنی کے گورنر جنرل سر ہنری ہارڈنج نے اپنی بہن کو 2 مارچ 1846 کو ایک خط لکھا جس میں اس نے یہ الفاظ لکھے کہ میں نے براعظم ایشیاء میں گلاب سنگھ سے بڑا بدمعاش کوئی نہیں دیکھا
فروری 1989 میں روسی فوج کے افغانستان سے ذلت آمیز انخلاء سے روس کے خلاف برسر پیکار دنیا بھر کے مجاھدین اور بلخصوص پاکستانی مجاھدین ( جن میں سے کچھ آزاد و مقبوضہ کشمیر سے بھی تھے) نے محسوس کیا کہ جسطرح روس کے خلاف مسلح کاروائی کی گئی اور وقت کی ایک سپر پاور روس کو ذلت امیز سکشت کے بعد بھاگنے پہ مجبور کیا گیا افغانستان سے، اسی طرح مقبوضہ کشمیر سے ہندو ظالم کو بھی بھگانا لازم ہے
گو اس سے قبل ریاستی انتخابات رزلٹ کے بعد مقبوضہ کشمیر کے نوجوان ہندو کے خلاف ہتھیار اٹھا چکے تھے تاہم وہ بہت کم تھے اس لئے ان کو مالی اور افرادی قوت مہیا کرنا لازم تھا
بابائے کشمیر امان اللہ خان مرحوم نے اپنی وفات سے قبل اپنی کتاب جہد مسلسل کی تقریب رونمائی میں اس بات کا اقرار کیا ہے کہ اس وقت کے آئی ایس آئی چیف سے ہم کشمیریوں نے استدعا کی تھی کہ کشمیر کی تحریک کو مسلح تحریک میں بدلہ جائے تاکہ نوجوان میں جذبہ جہاد ابھرے جس پہ پاکستانی فوج نے بھرپور تعاون کیا
کشمیر کی تاریخ ہندو کے ظلم و بربریت سے بھری پڑی ہے جس پہ ہم اگر یوم سیاہ اور یوم یکجہتی منانا شروع کریں تو شاید ہی سال میں کوئی ایسا دن ہو گا کہ جس میں ہندو کے ظلم سے کشمیری قوم محفوظ رہے ہو گی وگرنہ ہر دن بلکہ ہر گھنٹہ،ہر منٹ بعد ہندو ظالم نے کشمیری قوم پہ ایسا ظلم کیا کہ تاریخ نے شاید ہی کبھی ایسا ظلم و ستم دیکھا ہو
جہاں کشمیری قوم کی مسلح معاونت ضروری ہے وہاں پوری کشمیری قوم کیساتھ یکجہتی کا دن منانا بھی لازم ہے تاکہ دنیا کو ایک پیغام مل سکے کہ جہادی میدان کیساتھ عام روٹین میں بھی کشمیری قوم پاکستانی قوم کے دلوں میں بستی ہے
جماعت اسلامی کے سربراہ قاضی حسین احمد اور آزاد کشمیر کے صدر سردار محمد ابراہیم خان کی کاوشوں سے 1975 میں اس وقت کے پاکستانی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 28 فروری 1975 کو کشمیری قوم کیساتھ بطور یکجہتی کا دن منانے کا اعلان کیا اور پہلے یوم یکجہتی کشمیر کے دن کی تاریخ پڑھیں تو معلوم ہو گا کہ یہ احتجاج اس قدر سخت تھا کہ پورے پاکستان و آزاد کشمیر میں نا تو کوئی دکان کھلی نا کوئی دفتر حتی کہ لوگوں نے اپنے مال مویشیوں کو اس دن پانی تک نا پلایا اور اقوام عالم سے کشمیر کی آزادی کا مطالبہ کیا
اس کے بعد 1990 میں قاضی حسین احمد نے یوم یکجہتی کشمیر کا ایک دن مخصوص کرنے کی خاطر اس وقت کے وزیراعلی پنجاب میاں نواز شریف سے مشاورت کی جس پہ میاں نواز شریف نے تائید کی حتی کہ اس وقت کی وزیراعظم بےنظیر بھٹو نے بھی تائید کی اور 5 فروری 1990 کو مسلح عسکری تحریک آزادی کشمیر کی حمایت کی تائید کرتے ہوئے 5 فروری کو ہر سال یوم یکجہتی کشمیر منانے کا باقاعدہ اعلان کیا پھر اس کے بعد 2004 میں اس وقت کے وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی نے بھی اس کی تائید کی اور اس دن کو پورے جوش س جذبے سے منانے کی رغبت دلائی
یوم یکجہتی کشمیر کا دن اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی قوم کشمیری قوم کی مسلح تحریک آزادیِ کشمیر کی حمایتی ہے اور اقوام عالم سے اس بات کا مطالبہ کرتی ہے کہ کشمیر کو آزادی دی جائے
واضع رہے کہ پاکستان اور ہندوستان کے مابین تین جنگیں 1948,1965 اور کارگل جنگ 1999 مسئلہ کشمیر کے لئے ہی لڑی گئی ہیں جبکہ 1971 کی جنگ بنگلہ دیش کی خاطر تھی



0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home