Wednesday, 26 May 2021

لادی گینگ مجید لادی سے خدا بخش چکرانی تک ازقلم غنی محمود قصوری




ڈیرہ غازی خان میں ایک عرصہ سے چوروں ڈاکوؤں کا راج ہے جس سے وہاں کے باسیوں کا جینا محال ہو چکا ہے اور یہ علاقہ موجودہ وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزار کا آبائی بھی یے 

 لادی گینگ کا سرغنہ کمانڈر خدا بخش چکرانی ہلاک ہونے کی اطلاع ہے اور  آپریشن تاحال جاری ہے ان ڈاکوؤں کی جانب سے سیکیورٹی فورسز پر شدید فائرنگ کی جا رہی ہے 

چند روز قبل لادی گینگ کے ٹاپ کمانڈر خدا بخش چکرانی نےایک ہی خاندان کے 10 افرد کو قتل کر دیا تھا اور اپنی پوری شان و شان سے علاقے میں دندناتا پھر رہا تھے 

اس نے چند روز قبل پولیس کو مخبری کرنے پر 3 افرد کو قتل کیا اور ایک کے اعضاء کاٹنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر دال دی جس سے پورے ملک میں خوف وہراس کی لہر پھیل گئی 

انہوں نے جو طریقہ اختیار کیا وہ سیم کالعدم خارجی جماعت تحریک طالبان پاکستان اور داعش کا ہے 

وزیراعظم پاکستان عمران خان کے نوٹس لینے کے بعد کل پاکستان رینجرز  و پولیس نے مشترکہ آپریشن اس گروہ کے خلاف شروع کیا جس میں خدا بخش چکرانی کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے 

یہ گینگ اس قدر سفاک اور طاقتور ہے کہ ان کے پاس 400 مسلح افراد ہیں جن کے پاس ملکی و غیر ملکی جدید ترین اسلحہ کے ساتھ آر پی جی سیون راکٹ لانچرز بھی موجود ہیں بعض ذارئع کا کہنا ہے کہ اس گروہ کے پاس اینٹی ائیر کرافٹ گن بھی موجود ہیں


گزشتہ سال جون 2020 میں اسی گینگ کے اس وقت کے سربراہ مجید لادی کو پولیس و دیگر سیکیورٹی ادروں  نے زبردست مقابلے میں قتل کیا تھا جس کے سر کی قیمت 20 لاکھ مقرر تھی 

اب موجودہ سربراہ خدا بخش چکرانی خوف کی علامت سمجھا جاتا تھا اور انتہائی سفاک انسان تھا جو کہ اداروں کو قتل ،اقدام قتل،بینک ڈکیتی،اور دیگر سنگین مقدمات میں مطلوب تھا 


رواں سال 25 مارچ کو سیکیورٹی اداروں نے اسی گینگ کے خلاف تھلانگ کے علاقے میں آپریشن کیا تھا جس میں ہارون جیانی نام بدنام زمانہ ڈاکو مارا گیا تھا جو کہ اسی علاقے کا رہائشی تھا 

اس گینگ کے خلاف ابتک کئی آپریشن کئے جا چکے ہیں مگر افسوس کہ یہ گینگ ختم نہیں ہو سکا 

سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر یہ گینگ اتنا مضبوط کیسے ہو گیا ؟

کیا سیکیورٹی اداروں نے ان کو ڈھیل دی تھی یاں ڈیل کی تھی ؟

کیونکہ تیسری صورت نہیں بنتی  چند سال قبل بھی کچے کے علاقے میں چھوٹو گینگ کے خلاف پولیس آپریشن کی ناکامی پر پاکستان آرمی نے آپریشن کیا تھا جس کے بعد تصدیق ہوئی تھی کہ اس گروہ کے اعلی ترین پولیس اہلکاروں کے ساتھ روابط تھے 

اب چونکہ لادی گینگ کے خلاف آپریشن جاری ہے تو اب اس بات کی خاص تحقیق کی جائے کہ اس گروہ کے بھی پولیس کے ساتھ مراسم تو نہیں اگر ہیں تو ان اہلکاروں کو سامنے لایا جائے اور سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ دوسروں کو عبرت حاصل ہو سکے

نیز ہماری پولیس فورس کو مذید جدید ہتھیاروں کی سخت ضرورت ہے تاکہ وقت پڑنے پر رینجرز و فوج کو زحمت نا دینا پڑے کیونکہ پورے پاکستان کی 4 لاکھ سے اوپر اور پنجاب کی کم بیش 1 لاکھ 80 ہزار پولیس کو اربوں روپیہ تنخواہیں دی جاتی ہیں اگر یہ اتنا کام بھی نہیں کر سکتے تو ان کو مراعات و تنخواہیں دینے کا کیا فائدہ؟

افسوس کی بات ہے کہ بہت مرتبہ پولیس کی جانب سے ایسے افراد کی پشت پناہی ثابت ہوئی مگر کوئی خاص کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی

وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب اب وقت کا تقاضہ ہے کہ اس جیسے گروہوں کو مضبوط بنانے والے سیاسی و سیکورٹی اہلکاروں کو نشان عبرت بنایا جائے بصورت دیگر آپریشن آئے روز کرنے پڑینگے مگر اس کے باوجود یہ گینگ بڑھتے چلے جائینگے

1 Comments:

At 4 April 2022 at 05:52 , Blogger khalid zayad said...

Nice

 

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home